صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 537
صحيح البخاری جلده ۵۳۷ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنَى لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ کے ساتھ بھیجا جنہوں نے قربانی کے دن منلی مقام میں مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوْفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ اعلان کرنا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج وَيَوْمُ الْحَجَ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ وَإِنَّمَا کرنے کیلئے نہ آئے اور نہ کوئی نگا بیت اللہ کا طواف قِيْلَ الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلٍ قَوْلِ النَّاس کرے اور حج اکبر کا دن یہی قربانی کا دن ہے اور الْحَجُّ الْأَصْغَرُ فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى است حج اکبر اس لئے کہا گیا ہے کہ لوگ ( عمرے کو ) النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ فَلَمْ يَحُجَّ عَامَ حج اصغر کہتے ہیں۔سو حضرت ابو بکر نے اس سال لوگوں کو اطلاع دی کہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں رہا۔حَجَّةِ الْوَدَاعَ الَّذِي حَجَّ فِيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكٌ۔اس لئے کوئی مشرک حجۃ الوداع کے سال حج کرنے کے لئے نہیں آیا جس میں نبی ﷺ نے حج کیا تھا۔اطرافه ٣٦٩ ١٦٢٢، ٤٣٦٣، ٤٦٥٥ ٤٦٥٦ ٠٤٦٥٧ تشریح : كَيْفَ يُبَدُ إِلَى أَهْلِ الْعَهْدِ: معاہد کی طرف سے گر خلاف ورزی عید ہو تو تاوقتیکہ واضح کھلےالفاظ میں اعلان نہ کر دیا جائے جائز نہیں کہ مسلم اپنا عہد توڑے۔ہو سکتا ہے کہ کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو۔عہد توڑنے سے پہلے اسے موقع دینا ضروری ہے۔یہ مفہوم ہے عنوانِ باب کا۔اس مفہوم کی وضاحت کیلئے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے جو یہ ہے: وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةٌ فَالْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ ) (الأنفال: ۵۹) کہ اگر تو کسی قوم سے عہد شکنی کا ڈر رکھتا ہے تو اس طرح ان کا عہد ختم کر دے کہ جس سے وہ سمجھ لیں کہ اب تم دونوں ( فریق اپنی پابندیوں سے ) آزاد ہو۔اللہ خیانت کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔اس آیت سے قبل یہ مضمون ہے کہ جن لوگوں نے عہد کیا ہے ان کا طریق ہی یہ ہو چکا ہے کہ جب کبھی وہ کوئی معاہدہ کرتے ہیں، اسے توڑ دیتے ہیں۔وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ (الأنفال: ۵۷) اور وہ تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔مگر مومن کی شان یہ ہے کہ اس کے سارے کام تقویٰ اللہ پر مبنی ہوتے ہیں اور وہ ہر کام میں رضائے الہی چاہتا ہے اور محبت الہی کا نشان بنتا ہے کتنی اعلیٰ تعلیم ہے جو اسلام پیش کرتا ہے۔اسلام غدار دشمن سے بھی عدل کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور اسے بے خبر رکھ کر معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔محولہ بالا آیت کی وضاحت میں مذکورہ بالا واقعہ پیش کیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ مشرکین عرب میں اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں شروع ہورہی ہیں اور وہ جنگ کی تیاری میں ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع سے پہلے سال میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ منیٰ میں اعلان کر دیا جائے کہ چونکہ ان کی طرف سے غداری کا ارادہ ہے۔اس لئے آئندہ ہم بھی معاہدہ کی پابندیوں سے آزاد ہوں گے۔اس اعلان سے ان کے حوصلے پست ہو گئے۔سورہ تو بہ کا نزول اسی اعلان سے متعلق ہے۔