صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 527 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 527

صحيح البخاری جلده ۵۲۷ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة بْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ میں نے پناہ دی ہے۔ یعنی ہیرہ کے فلاں بیٹے کو۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام ھانی ! جس کو أُمَّ هَانِي قَالَتْ أُمُّ هَانِي وَذَلِكَ ضُحًى۔ تم نے پناہ دی، ہم نے بھی اس کو پناہ دی۔ ام ھانی کہتی تھیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔ اطرافه ٢٨۰، ٣٥٧، ٦١٥٨۔ دینے نہ دینے کا تعلق امام سے ہے۔ اء رو تشريح : أَمَانُ النِّسَاءِ وَجوَارُهُ ، فقاء کا اتا ہے کہ دن کو پناہ دینے ۔ حضرت ام ہانی نے جسے پناہ دی تھی ، آ دی تھی ، آخر اس کا فیصلہ بھی آنحضہ ا فیصلہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے فرمایا تھا۔ قد أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِيُّ - ایک مسلمان فرد بھی جو کسی کو پناہ دیتا ہے اس کی امان بھی قابل اعتبار ہے۔ بشرطیکہ امام منظور فرمائے اور اس پناہ دینے میں مرد و عورت کی تفریق نہیں۔ ہر مسلم فرد کی ذمہ داری قابل احترام ہے۔ سحنون اور عبدالمالک بن ماجشون کے نزدیک اس کا آخری فیصلہ امام کی رائے پر ہے إِنْ أَجَازَهُ جَازَ وَإِنْ رَدَّهُ رُدَّ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۲۸) باب ۱۰ : ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَجِوَارُهُمْ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ مسلمانوں کی ذمہ داری اور امان ایک ہی سی ہے ان میں سے ادنی اشخص بھی امان دے سکتا ہے ۳۱۷۲: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۳۱۷۲ محمد بن سلام ) نے مجھ سے بیان کیا کہ وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَکیچ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے التَّيْمِي عَنْ أَبِيْهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ ابراہیم تھی سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت فَقَالَ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا کی کہ انہوں نے کہا: حضرت علی نے ہمیں مخاطب کیا كِتَابَ اللَّهِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ اور کہا: ہمارے پاس اور کوئی کتاب نہیں جسے پڑھتے ہوں ۔ مگر اللہ کی کتاب ہی ہے اور وہ جو اس ورق میں فَقَالَ فِيْهَا الْجِرَاحَاتُ وَأَسْنَانُ الْإِبِلِ ہے۔ انہوں نے کہا: اس میں زخموں کے قصاص ہیں وَالْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى كَذَا اور اونٹوں کے نصاب سے متعلق احکام اور یہ بھی کہ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيْهَا حَدَثًا أَوْ آوَى فِيْهَا مدینہ کی زمین جبل غیر سے فلاں مقام تک حرم ہے، مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ جس نے اس حرم میں کوئی بدعت کی یا کسی بدعتی کو پناہ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ دی اس پر اللہ اور ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی ۔