صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 520
صحيح البخارى جلده تشریح: ۵۲۰ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة إِثْمُ مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا بِغَيْرِ جُرم: امام بخاری کی مستند روایت ۳۱۶۶ میں حدیث کے الفاظ بغیر قید و شرط کے ہیں۔لیکن امام موصوف نے اس روایت کی بعض سندوں کی بناء پر عنوان باب میں تصریح کر دی ہے کہ بغیر جرم معاہد کو قتل کرنا گناہ ہے۔ابو معاویہ کی روایت میں الفاظ بغير حق مروی ہیں اور نسائی اور ابوداؤد کی روایت کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدَةً بِغَيْرِ حِلَّهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ جس نے معاہد نفس کو ناحق قتل کیا ، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔جس طرح مومن کے اراد تا قتل کرنے کی سزا قر آن کریم میں جہنم بتائی گئی ہے۔اسی طرح یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہد قوم کے ایک فرد کو قتل کرنے کی سزا جنت سے محرومی قرار دی ہے۔گویا انسانی حقوق کو برابر رکھا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفح ۳۲۴) اس بارہ میں کتاب الديات، باب إِثْمُ مَنْ قَتَلَ ذِمّيًا بِغَيْرِ جُرم بھی دیکھئے۔باب : إِخْرَاجُ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ٦ جزیره عرب سے یہودیوں کا نکالنا وَقَالَ عُمَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے: وَسَلَّمَ أُقِرُكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللهُ۔میں تمہیں یہاں اس وقت تک ٹھہرنے دوں گا جب تک کہ اللہ تمہیں ٹھہرائے۔رَضِيَ ٣١٦٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۱۶۷ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ لیٹ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: سعید مقبری نے الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے اللهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي باپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔الْمَسْجِدِ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا: ہم مسجد میں تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ باہر آئے اور آپ نے فرمایا: یہودیوں کے پاس چلو۔فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ ہم باہر نکلے۔اس مدرسہ میں پہنچے جہاں تو رات کا فَقَالَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ درس ہوتا تھا۔آپ نے فرمایا: اسلام قبول کر لو تم (سنن النسائى كتاب القسامة، باب تعظيم قتل المعاهد) سنن أبی داود، كتاب الجهاد، باب في الوفاء للمعاهد وحرمة ذمته)