صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 493
صحیح البخاری جلده ۴۹۳ ۵۷ - کتاب فرض الخمس فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله کا وہ سامانِ نغنیمت ہے جو مقتول سے پایا ہو۔ میں کھڑا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ہوا اور یہ کہہ کر میں پھر بیٹھ گیا۔ آپ نے تیسری بار پھر فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ ایسے ہی فرمایا۔ میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے صَدَقَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فرمایا: ابو قتاده! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ میں نے آپ سے فَأَرْضِهِ عَنِّي فَقَالَ أَبُو بَكْرِ الصِّدِّيقُ سارا واقعہ بیان کیا۔ تو ایک شخص نے کہا: یا رسول الله ! رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ اس نے سچ کہا ہے اور اس کا سامان کہا ہے اور اس کا سامانِ غنیمت میرے پاس إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ ہے۔ آپ میری طرف سے اسے راضی کر دیں ۔ حضرت وَرَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: بخدا! ایسا نہیں ہوگا کہ اس (کے شکار ) کا کوئی اور قصد کرے۔ وہ تو اللہ کے يُعْطِيكَ سَلَبَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ شیروں میں سے ایک شیر ہے جو اللہ اور اس کے رسول عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَأَعْطَاهُ { فَبِعْتُ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑ رہا تھا۔ رسول اللہ الدِّرْعَ} فَابْتَعْتُ { بِهِ} مَخْرَفًا فِي صلى اللہ علیہ وسلم اس سے یہ سلوک نہیں کریں گے کہ بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَتَّلْتُهُ فِي اس کا سامانِ غنیمت تمہیں دے دیں۔ نبی صلی اللہ الْإِسْلَامِ۔ اطرافه ۲۱۰۰ ، ٤۳۲۱، ٤٣٢٢، ٧١٧٠۔ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر نے سچ کہا ہے اور آپ نے وہ سامان مجھے دلایا۔ میں نے ذرہ بیچی } اور { اس کی ☆ قیمت سے بنو سلمہ کے محلے میں ایک باغ خریدا اور کی یہ پہلی جائیداد ہے جو میں نے اسلام میں پیدا کی ۔ تشريح : مَنْ لَّمْ يُخَمِّسِ الْأَسْلَابَ وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخَمِّسَ: مسئلہ معنونہ مقتول اور زخمی کے سامان واسلحہ وغیرہ کے متعلق ہے۔ جس پر جمہور کا اتفاق ہے کہ وہ اسے ملے گا جس نے اسے قتل کیا ہو۔ اسلاب ، سَلَب کی جمع ہے جس کے معنی ہیں چھینا ہوا مال ۔ یہ لفظ کپڑے اور اسلحہ کی قسم کے سامان پر اطلاق پاتا ہے۔ امام احمد بن حنبل کے نزدیک سواری وغیرہ کے جانور اس میں شامل نہیں اور امام شافعی مذکورہ بالا اجازت صرف اسلحہ سے مخصوص سمجھتے ہیں۔ مجاہد ایسا سامان تقسیم غنیمت سے پہلے پہلے لے سکتا ہے۔ اگر یہ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ (فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۲۹۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔