صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 460
صحيح البخاری جلده ۵۷ - کتاب فرض الخمس بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ أَلَا میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي محسوس کی۔آپ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو ایسی إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَكَبْرَا الله بات نہ بتاؤں جو اس سے بہتر ہے جس کا تم دونوں نے مطالبہ کیا ہے۔جب تم اپنے بستروں میں (سونے أَرْبَعًا وَثَلَاثِيْنَ وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ کے لیے لیٹو تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو اور تینتیس بار وَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِيْنَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ الحمد لله اور تینتیس بار سبحان اللہ۔یہ تمہارے لئے یقیناً اس بات سے بہتر ہے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے۔لَكُمَا مِمَّا سَأَلْتُمَاهُ۔اطرافه ٣٧٠٥، ٥٣٦١ ٥٣٦٢، ٦٣١٨۔الله تشریح : الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَالْمَسَاكِينِ : امام بخاری : نے امر واقعہ پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے بتایا ہے کہ آپ نے احکام الہی کو جس طرح سمجھا اسی طرح ان پر عمل کیا۔مال غنیمت کا پانچواں حصہ بجائے اہل بیت کو دینے کے مساکین اور بیوگان میں تقسیم کیا گیا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو شدید ضرورت تھی۔اس میں سے ایک غلام یا لونڈی ان کو دی جا سکتی تھی۔مگر آپ نے دوسرے محتاجوں کو مقدم فرمایا اور یہ مستند روایت بھی خود اہل بیت ہی کی ہے۔اس میں گو سائل یا مساکین کے الفاظ نہیں مگر اس کی دوسری سندوں میں ان الفاظ کی صراحت موجود ہے۔امام احمد بن حنبل کی روایت میں ہے۔عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ۔۔۔فَقَالَ رَسُولُ الله الا الله وَاللَّهِ لَا أُعْطِيْكُمَا وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تَطْوَ بُطُونُهُمْ لَا أَجِدُ مَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَكِنِّي أَبِيعُهُمْ وَأَنْفِقُ عَلَيْهِمْ أَثْمَانَهُمْ با آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے مطالبہ پر کوئی غلام تمہیں دے دوں اور اصحاب الصفہ کو چھوڑ دوں جن کے پیٹ میں بھوک چٹکیاں لے رہی ہے۔میں غلاموں کو فروخت کر کے اصحاب الصفہ کے لئے خرچ کروں گا۔ام الحکم بنت زبیر سے یہی روایت ابوداؤد نے نقل کی ہے۔اس میں ہے : أَصَابَ رَسُولُ اللهِ سَبْيًا فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي وَفَاطِمَةُ بِئْتُ رَسُولِ اللهِ عل۔۔۔وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَلَنَا بِشَيْءٍ مِنَ السَّبِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ سَبَقَكُنَّ يَتَامَى بَدْرِ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں اور میری بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ ( آپ کے پاس گئے اور ہم نے آپ سے مانگا کہ آپ ہمارے لیے کچھ قیدی دینے کا ارشاد فرمائیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدر کے تتامی تم پر سبقت رکھتے ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء 4 صفحہ ۲۵۹، عمدۃ القاری جزء۵ صفحہ ۳۶۔انہی روایتوں کے پیش نظر عنوانِ باب میں لفظ الْمَسَاكِین اور الأرامل رکھ کر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اموال غنیمت سے مجاہدین کا الله ( مسند احمد بن حنبل، مسند العشرة المبشرين، مسند علي بن أبي طالب، جزء اول صفحہ ۱۰۶) (سنن أبي داود، كتاب الخراج باب في بيان مواضع قسم الخمس وسهم ذى القربى)