صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 459
صحیح البخاری جلده ۴۵۹ ۵۷ - کتاب فرض الخمس مِنَ الرُّخَةِ وَلَا مِنَ النَّخَةِ یعنی بکری کے بچے اور اونٹوں کے بچے زکوۃ میں نہ لو۔ یہ روایت کمزور ہے۔ حمیدی امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں ۔ مذکورہ بالا حوالہ ضمنا بطور تائید نقل کیا گیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۵۸) باب ٦ الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْخُمُسَ لِنَوَائِبِ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ وَالْمَسَاكِيْنِ اس بات پر دلیل کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ رسول اللہ ﷺ کی ناگہانی ضرورتوں اور مساکین کیلئے ہے وَإِيْنَارُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل صفہ اور بیواؤں کو الصُّفَّةِ وَالْأَرَامِلَ حِيْنَ سَأَلَتْهُ فَاطِمَةُ مقدم رکھا ۔ جب حضرت فاطمہ نے چکی اور آٹا پینے وَشَكَتْ إِلَيْهِ الطَّحْنَ وَالرَّحَى أَنْ کی شکایت کی اور آپ سے طلب کیا کہ قیدیوں میں يُخْدِمَهَا مِنَ السَّبْيِ فَوَ كَلَهَا إِلَى اللَّهِ ۔ سے کوئی خادمہ انہیں دی جائے تو آپ نے (خادمہ دینے کی بجائے ) انہیں اللہ کے حوالے کیا۔ ۳۱۱۳: حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ۳۱۱۳: بدل بن مخبر نے ہم سے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ نے خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے حکم نے بتایا کہا: میں قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَنَا نے ابن ابی لیلی سے سنا۔ (انہوں نے کہا:) حضرت عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ علی نے ہم سے بیان کیا کہ فاطمہ علیہ السلام نے اس تکلیف کی شکایت کی جو چکی میں آٹا پیسنے کی وجہ سے اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى مِمَّا ان کو ہوئی تھی تو فاطمہ کو اطمہ کو خبر پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ تَطْحَنُهُ فَبَلَغَهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے ہیں اور (فاطمہ ) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَبْيِ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ آپ کے پاس ایک خادم مانگنے کے لئے آئیں تو آپ خَادِمًا فَلَمْ تُوَافِقْهُ فَذَكَرَتْ لِعَائِشَةَ سے ملنے کا اتفاق نہ ہوا۔ انہوں نے حضرت عائشہ سے فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذکر کیا۔ نبیصلی اللہ علیہ وسلم آئے تو حضرت عائشہ نے آپ سے فاطمہ کی تکلیف کا ذکر کیا۔ یہ سن کر آپ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لَهُ فَأَتَانَا ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اس وقت اپنے وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِتَقُوْمَ بستروں میں داخل ہو چکے تھے۔ ہم اُٹھنے لگے تو آپ فَقَالَ عَلَى مَكَانِكُمَا حَتَّى وَجَدْتُ نے فرمایا: اپنی جگہ پر ہی رہو ( آپ بستر پر بیٹھ گئے) اور