صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 458
صحيح البخاری جلده عُثْمَانَ ۴۵۸ ۵۷- کتاب فرض الخمس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرَهُ يَوْمَ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے والے ہوتے تو جَاءَهُ نَاسٌ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ وہ اس دن ان کے خلاف کہتے جس دن آپ کے پاس فَقَالَ لِي عَلِيٌّ اذْهَبْ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبَرْهُ أَنَّهَا صَدَقَةُ رَسُوْلِ اللَّهِ کچھ لوگ آئے اور حضرت عثمان کے کارکنوں کا شکوہ کرنے لگے تو حضرت علیؓ نے مجھ سے کہا: حضرت عثمان کے پاس جاؤ اور انہیں اطلاع دو کہ یہ زکوۃ کا مال صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمُرْ سُعَاتَكَ رسول الله ﷺ کی طرف سے صدقہ ہے۔آپ کارکنوں يَعْمَلُوْا بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ أَغْنِهَا سے کہیں کہ وہ اس کے بارے میں آپ کے عمل کے ضَعْهَا حَيْثُ أَخَذْتَهَا۔عَنَّا فَأَتَيْتُ بِهَا عَلِيًّا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ مطابق عمل کریں۔چنانچہ میں یہ اطلاع لے کر ان کے پاس آیا۔تو حضرت عثمان نے کہا: ہمیں اس اطلاع کی ضرورت نہیں (کیونکہ ہمارے پاس پروانہ موجود ہے) تو میں یہ پیغام لے کر حضرت علی کے پاس آیا اور ان کو اطلاع دی تو حضرت علی نے کہا کہ یہ اطلاع نامہ وہیں طرفه ۳۱۱۲ رکھ دو جہاں سے تم نے لیا ہے۔۳۱۱۲: وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا :۳۱۱۲ حمیدی نے کہا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہم سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوْقَةَ قَالَ سے بیان کیا کہ محمد بن سوقہ نے ہمیں بتایا، کہا کہ میں سَمِعْتُ مُنْذِرًا الثَّوْرِيَّ عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ نے مندر ثوری کو ابن حنفیہ سے روایت کرتے سنا۔قَالَ أَرْسَلَنِي أَبِي خُذْ هَذَا الْكِتَابَ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بھیجا اور ( کہا: ) یہ تحریر لو اور حضرت عثمان کے پاس لے جاؤ۔کیونکہ بِهِ إِلَى عُثْمَانَ فَإِنَّ فِيْهِ أَمْرَ اس میں زکوۃ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فَاذْهَتْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ۔طرفه: ۳۱۱۱۔تشریح: حکم موجود ہے۔اذْهَبُ إِلَى عُثْمَانَ فَأَخْبِرُهُ۔۔۔۔: روایت نمبر ۳۱ میں جس فرمانِ نبوی کا ذکر ہے کہ حضرت علی نے وہ حضرت عثمان کو بھیجا اور انہوں نے کہا کہ انہیں اس کی ضرورت نہیں۔شارحین کی رائے ہے کہ حضرت عثمان کو وہ ارشاد نبوی معلوم تھا۔حمیدی کی روایت میں جو آخر میں نقل کی گئی ہے یہ الفاظ ہیں لَا تَأْخُذُوا الصَّدَقَةَ