صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 42
صحيح البخاری جلدم ۴۴ ۳۴- كتاب البيوع خیبر وغیرہ سے حاصل شدہ ملی جلی کھجوریں جو تقسیم ہوئیں تو بعض صحابہ نے عمدہ قسم کی کھجوروں کے ایک صاع کے عوض اپنی دو صاع کھجوریں دینا چاہا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مبادلے سے منع فرمایا اور ہدایت کی کہ ملی جلی کھجور بازار کے نرخ پر فروخت کر کے کھجور خریدی جائے تا کہ خرید و فروخت صحیح صورت میں ہو اور کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ملی جلی کھجوروں میں کوئی قسم اپنے اصل نرخ سے کم و بیش ہو۔آپ کی یہ ہدایت بھی باب ۱۹ میں مندرجہ ہدایت کی مزید تشریح ہے۔بَابِ ۲۱ : مَا قِيْلَ فِي اللَّحَامِ وَالْجَزَارِ قصاب اور گوشت بیچنے والے کے بارے میں ہدایت :۲۰۸۱ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۲۰۸۱ عمر بن حفص بن غیاث ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہم حَدَّثَنِي شَقِيْقَ عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ قَالَ سے بیان کیا، کہا: شقیق نے مجھے بتایا۔حضرت جَاءَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا ابو مسعود سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک شُعَيْبِ فَقَالَ لِغُلَامٍ لَّهُ قَصَّابِ اجْعَلْ انصاری شخص آیا، جس کی کنیت ابو شعیب تھی۔اُس لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً نے اپنے ایک لڑکے کو جو قصاب تھا کہا کہ میرے لئے مِنَ النَّاسِ کھانا تیار کر دو، جو پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو۔فَإِنِّي أُرِيْدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَإِنِّي قَدْ دوں۔آپ پانچویں ہوں گے۔میں نے آپ کے عَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوْعَ فَدَعَاهُمْ چہرہ میں بھوک محسوس کی ہے۔چنانچہ اُس نے ان فَجَاءَ مَعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى (احباب) کو بلایا تو ان کے ساتھ ایک اور شخص بھی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ آ گیا۔فی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہمارے ساتھ نبی شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَأَذَنْ لَّهُ وَإِنْ شِئْتَ آگیا ہے۔اگر تم اسے چاہو تو اجازت دے دو اور أَنْ يَرْجِعَ رَجَعَ فَقَالَ: لَا بَلْ قَدْ أَذِنْتُ اگر چاہو کہ لوٹ جائے تو لوٹ جائے گا۔اُس نے کہا: نہیں بلکہ میں نے اس کو اجازت دے دی ہے۔لَهُ اطرافه ٢٤٥٦، ٥٤٣٤ ٥٤٦١