صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 582 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 582

صحيح البخاری جلد ۴ PAY ۴۹ - كتاب العتق الله عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنِّي سَابَيْتُ رَجُلاً انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی تو اس نے فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نبی ﷺ سے میری شکایت کر دی۔نبی ﷺ نے مجھے وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے فرمایا: کیا تم نے اس کو اس کی ماں کا طعنہ دیا ہے؟ وَسَلَّمَ: أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ پھر آپ نے فرمایا: تمہارے بھائی ہی تمہارے نوکر چاکر ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کر دیا ہے۔إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيْكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ اس کو اسی کھانے سے کھلائے جو وہ خود کھا تا ہو اور اسی فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا کپڑے سے پہنائے جو وہ خود پہنتا ہو اور تم ان کو ایسے يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَّا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ کاموں کی تکلیف نہ دیا کرو جو انہیں نڈھال کر دیں اور كَلَّفْتُمُوْهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِيْنُوْهُمْ۔اگر تم ان کو ایسے کاموں کی تکلیف دو جو اُن پر گراں ہوں اطرافه: ٣٠، ٦٠٥٠، اس لئے جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو چاہیے کہ وہ تو ایسے کاموں میں ان کو مدد دیا کرو۔: تشریح : الْعَبِيدُ اِخْوَانُكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ : روایت نبر ۲۵۴۵ کے لئے کتاب الایمان باب ۲۲ روایت نمبر ۳۰ دیکھئے۔غلاموں سے بدسلو کی جاہلیت و کفر کی طرف منسوب کی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو غلام گھر میں بطور خادم ہوتے ، ان کے ساتھ کھانے پینے اور پہنے میں مساوات کا سلوک کیا جاتا تھا۔وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا۔۔۔عنوان باب میں آیت کا حوالہ الفاظ احسان اور هَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ کی وجہ سے دیا گیا ہے۔احسان کے معنی ہیں اعلیٰ درجہ کا سلوک ، جس میں حسن واحسان کا پہلو نمایاں ہو۔عربی زبان میں یہ لفظ غایت درجہ نیک سلوک پر دلالت کرتا ہے اور آیت محولہ بالا میں تلقین کی گئی ہے کہ والدین ، اقرباء و مساکین اور دُور ونزدیک سے تعلق رکھنے والے افراد معاشرہ سب کے ساتھ اعلیٰ درجہ کا نیک سلوک کیا جائے۔محولہ بالا آیت معہ ترجمہ یہ ہے: وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَّ بِذِي الْقُرُبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنُبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخَوْرًا (النساء: ۳۷) تم اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ بہت احسان کرو۔نیز رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور اسی طرح رشتہ دار ہمسایوں اور بے تعلق ہمسایوں اور پہلو میں بیٹھنے والے لوگوں اور مسافروں اور جن کے تم مالک ہو، ان کے ساتھ بھی ، اور جو متکبر اور اترانے والے ہوں انہیں اللہ ہرگز پسند نہیں کرتا۔