صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 560
صحيح البخاری جلد ۴ ۵۶۰ ۴۹ - كتاب العتق إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي مَا انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے وَسْوَسَتْ بِهِ صُدُورُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ میرے لئے میری امت کے ان وسوسوں کو جو اُن أَوْ تَكَلَّمْ۔ إطرافه: ٥٢٦٩، ٦٦٦٤ کے سینے میں پیدا ہوں نظر انداز کر دیا ہے، جب تک کہ کوئی ان پر عمل یا ان کا اظہار نہ کرے۔ ٢٥٢٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۲۵۲۹ محمد بن کثیر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سفیان ثوری) سے روایت کی کہ یحی بن سعید نے مُّحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابراہ ابراہیم تیمی سے، ابن تیمی نے علقمہ بن وقاص لیٹی سے روایت کی۔ انہوں ابْنِ وَقَاصِ اللَّيْغِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ابْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْأَعْمَالُ تھے کہ آپ نے فرمایا: اعمال نیت کے مطابق ہوتے بِالنِّيَّةِ وَلِامْرِئٍ مَّا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ ہیں اور آدمی کو جو اس نے نیت کی ہے وہی ملتا ہے۔ سو هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہو، اس اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہوگی ۔ اور دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔ شادی کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی امر کے لئے ہوگی جس کے لئے اس نے ہجرت کی۔ إطرافه ١، ٥٤ ، ۳۸۹۸ ، ٥۰۷۰، ٦٦٨٩، ٦٩٥٣ تشريح : الخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ فِي الْعَتَاقَةِ وَالطَّلَاقِ وَنَحْوِهِ: عَلام ه: غلام آزاد کرنے اور طلاق دینے میں خطا و نسیان کا وقوع اس طرح ہو سکتا ہے کہ غصے کی حالت میں طلاق کی دھمکی دیدے یا آزاد کرنے کا وعدہ کر کے بھول جائے ۔ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی رائے ہے کہ یہ باب اس روایت کارڈ کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے جو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب کی گئی ہے کہ دھمکی یا وعدہ سے طلاق یا آزادی واقع ہو جاتی ہے۔ خواہ عمداً اس کا اظہار کرے ے یا غلطی سے یا بھول کر ۔ اکثر مالکی بھی اس سے متفق ہیں اور اور احناف احناف کا کا یہ یہ نا مذہب ہے ہے کہ کہ طلاق طلاق ہے یا آزادی بہر حال واقع ہو جائے گی ۔ اسی طرح اگر کوئی بتوں وغیرہ کے نام پر غلام آزاد کرے تو بھی آزادی واقع ہو جائے گی۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۹۸) (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۸۶، ۸۷)