صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 547
صحيح البخاري - جلد ۴ ۵۴۷ ۴۸ - كتاب الرهن ٢515-٢٥١٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ ۲۵۱۵-۲۵۱۶: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، منصور أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ يَ اللهُ عَنْهُ : نے ابو وائل سے سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا : حضرت مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے: جس شخص وَهُوَ فِيْهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ نے قسم کھائی کہ کسی مال کو اس قسم کے ذریعے سے اپنا بنالے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت قسم میں غَضْبَانُ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ وہ اس سے ناراض ہوگا۔ پھر اللہ نے اس قول کی تصدیق نازل کی: جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ فَقَرَأَ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ قسموں کے بدلے تھوڑا مول لیتے ہیں۔ دردناک (آل عمران : ۷۸) ران: ۷۸) ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ عذاب ہے۔ (اخیر آیت) تک پڑھی۔ اس کے بعد خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ حضرت اشعث بن قیس ہمارے پاس آئے تو انہوں أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: فَحَدَّثْنَاهُ نے پوچھا: ابو عبد الرحمن تم سے کیا باتیں کر رہے تھے؟ قَالَ: فَقَالَ: صَدَقَ لَفِيَّ نَزَلَتْ * (ابو وائل نے) کہا: ہم نے ان سے یہ حدیث بیان کی۔ ☆ كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُوْمَةٌ فِي کہتے تھے: انہوں نے کہا: ابو عبد الرحمن نے سچ کہا ہے۔ بِئْرٍ فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللہ یہ آیت بخدا میرے متعلق ہی اتاری گئی میرے اور کسی شخص کے درمیان ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اللہ تھا۔ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لے گئے۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ قُلْتُ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گواہ لاؤ یا وہ قسم إِنَّهُ إِذَا يَحْلِفُ وَلَا يُبَالِي فَقَالَ کھائے۔ میں نے کہا: وہ تو قسم کھائے گا اور پروا نہیں رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ کرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوالہ اللہ ﷺ نے فرمایا : جو ایسی قسم کھائے حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ کہ وہ اس کے ذریعہ کسی مال کو اپنا بنانا چاہتا ہو حالانکہ فِيْهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ۔ وہ اس میں جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے عمدة القاری میں ”نَزَلَتْ" کی بجائے ” وَاللهِ أُنْزِلَتْ ہے۔ (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۷۵ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔