صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 543 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 543

صحيح البخاری جلد ۴ ۵۴۳ ۴۸- كتاب الرهن تشريح : رهن السلاح: حضرت محمد بن مسلمہ کا اقعہ بی بتاتا ہے کہ میر بھی بتاتا ہے کہ صحابہ کرام بھی تہی دست تھے کہ وہ کعب بن اشرف کے پاس اپنی زرہیں رکھنے کے لئے تیار ہو گئے ؟ جب اس نے ان سے عورتیں یا بچے بطور یر غمال رکھنے کا مطالبہ کیا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصل مقصود رہن رکھنا نہ تھا بلکہ باتوں میں مشغول کر کے اس کے قتل کا موقع پیدا کرنا تھا مگر کعب بن اشرف گردو پیش کے حالات فقر و فاقہ سے ناواقف نہ تھا۔ اگر قحط سالی اور تنگ حالی کا عذر فی الواقع درست نہ ہوتا تو وہ جھوٹے عذر سے فریب میں کبھی نہ آتا۔ واقعات مشہورہ کے پیش نظر اسے یقین تھا کہ زر ہیں رکھنے پر ان کی آمادگی بناوٹی نہیں بلکہ بچی ہے۔ مذکورہ بالا واقعہ کی تفصیل کتاب المغازی باب ۱۵ روایت نمبر ۴۰۳۷ میں دیکھئے۔ دونوں باب ( نمبر ۳۰۲) رہن کی ضرورت کے تعلق میں ہیں کہ انسان حضر میں بھی رہن کا محتاج ہو سکتا ہے اور سفر میں بھی۔ علاوہ ازیں مختلف حالات کی مجبوری سے رہن رکھ کر ضروریات زندگی مہیا کی جاتی ہیں۔ غرض رہن کو صرف حالات سفر سے ہی محدود کرنا درست نہیں۔ باب ٤ : الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوْبٌ کیا رہن شدہ سواری استعمال میں لائی جاسکتی ہے اور دو ہی جاسکتی ہے؟ وَقَالَ مُغِيْرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ : تُرْكَبُ اور مغیرہ نے ابراہیم (نخعی) سے روایت کرتے ہوئے الضَّالَّةُ بِقَدْرِ عَلَيْهَا وَتُحْلَبُ بِقَدْرِ بتایا۔ بھولی بھنگی سواری اسی اندازے کے مطابق استعمال عَلَيْهَا وَالرَّهْنُ مِثْلُهُ۔ میں لائی جائے جو چارہ دیا گیا ہو اور اسی کے مطابق وہ دو ہی بھی جائے ۔ اسی طرح رہن شدہ جانور بھی ۔ ٢٥١١: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۵۱۱ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا ( بن ابی زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ زائدہ) نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے عامر سے، عامر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُوْلُ : الرَّهْنُ يُرْكَبُ الوج ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ بِنَفَقَتِهِ وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرَ إِذَا كَانَ آنحضرت فرماتے تھے کہ گروی شده شدہ جانور پر اس وجہ سے کہ اس پر خرچ کیا جاتا ہے سواری کی جائے اور جو مَرْهُوْنًا ۔ طرفه: ٢٥١٢۔ دودھ دینے والا جانور ہو اس کا دودھ بھی پیا جائے جبکہ وہ رہن ہو۔