صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 394 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 394

صحيح البخاري - جلد ۴ ا حاله ۴۳- كتاب الاستقراض أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ نے سلمہ سے مسلمہ نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت صلى الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رعنہ سے روایت ) روایت کی کہ نبی علی کے عروسة فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ: دَعُوهُ پاس ایک شخص آ کر آپ سے تقاضا کرنے لگا اور اُس فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ۔ نے آپ سے سخت کلامی کی۔ اس پر آپ کے صحابہ نے اُس کو مارنے کا ارادہ کیا۔ آپ نے فرمایا: جانے د دو کیونکہ حق دار ایسی باتیں کیا ہی کرتا ہے۔ اطرافه ۲۳۰۵، ۲۳۰۶، ۲۳۹۰، ۲۳۹۲، ۲۳۹۳، ٢٦٠٦، ٢٦٠٩۔ تشریح : لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَال : قرض کی یا ادائیگی قابل تعری جرم ہے۔ یا ارتباط اس حدیث سے کیا گیا ہے جو باب ۴ روایت نمبر ۲۳۹۰ میں ابھی گزر چکی ہے۔ صلى الله وَيُذْكَرُ عَنِ النَّبِيِّ عَلم ۔۔۔۔۔۔۔ مشار مشار الیہ حدیث امام احمد بن حنبل اور اسحق بن راہویہ کے اپنی اپنی مسندوں میں لائے ہیں ۔ ابوداؤد ہے نسائی کے ابن ماجہ " اور طبرانی ہے۔ ابن ماجہ اور طبرانی نے بھی یہ موصولاً نقل کی ہے اور ان کے نزدیک یہ روایت از قبیل حسن ہے۔ لفظ لَوَی يَلْوِی لَيًّا بمعنی ٹال مٹول کرنا۔ الْوَاجِدُ، وُجد سے اسم فاعل ہے۔ وُجُد کے معنے ہیں قدرت و استطاعت اور الْوَاجِد کے معنے ہیں: طاقت رکھنے والا ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۷۸ ) (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۳۶) قَالَ سُفْيَانُ عِرْضُهُ : یعنی سفیان کے نزدیک نادہند کی بے عزتی کرنے سے مراد یہ ہے کہ قرض خواہ اسے کہے کہ تو ٹال مٹول کر رہا ہے، تیری نیت اچھی نہیں۔ یعنی قرض لیتے وقت تیرا رویہ کچھ اور تھا اور دینے کے وقت کچھ اور ۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ گالی گلوچ کرے یا نخش بکے، اُس سے ہاتھا پائی کرے۔ اسلام نے ایسی نازیبا حرکات کی اجازت نہیں دی۔ اس کے لئے دارالقضاء کا راستہ کھلا ہے۔ جسے شریعت نے یہ اختیار دیا ہے کہ آسودہ حال ہونے کی حالت میں نادہند کو قید کی سزا دے اور جائیداد کی ترقی کر کے حق دلوائے ۔ مذکورہ بالا حدیث سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ تنگدست جو في الواقع معذور ہو، وہ قید نہ کیا جائے ۔ آج کل کے سول لاء یعنی قانون مدنی میں جس مقروض کے خلاف ڈگری ہو چکی ہو اگر ترقی سے قی سے قرض کی وصولی نہ ہو سکے تو اُس کے لئے ایک ماہ قید کی سزا ہے۔ لیکن شریعت اسلامیہ نے نادہند کے خلاف تعزیری کاروائی میں تہی دست معذور اور آسودہ حال نادہند جو ادا۔ ائیگی پر قادر ہو، دونوں کے درمیان فرق ملحوظ رکھا ہے۔ تہی دست کا قرضہ بیت المال سے ادا کرنے کی ہدایت کی ہے اور آسودہ حال کے لئے یہ سفارش کی ہے: وَإِنْ كَانَ (مسند احمد بن حنبل، مسند الشاميين۔ حديث الشريد بن سويد الثقفى جزء ۴ صفحه (۲۲۲) (ابوداؤد، كتاب الأقضية، باب في الحبس في الدين ٣ سنن نسائی، کتاب البيوع، باب مطل الغنى) (ابن ماجه، کتاب الاحكام، باب الحبس في الدين والملازمة) ه (المعجم الأوسط للطبرانی باب من اسمه ابراهیم، جزء ۳ صفحه (۴۶)