صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 322 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 322

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۲۲ ام - كتاب الحرث والمزارعة معین وقت کا ذکر نہ ہو تو سمجھا جائے گا کہ سال بھر کے لئے ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۸) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۱۶۸) مگر امام بخاری محولہ بالا روایت کو مسئلہ معنونہ استنباط کرنے میں کافی نہیں سمجھے۔کیونکہ جنگی حالات معین میعاد پرٹھیکہ دینے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔چنانچہ عنوان باب جملہ شرطیہ ناقصہ ہے۔یعنی شرط کا جواب اس میں چھوڑ دیا گیا ہے اور باب نمبر ۱ بلا عنوان ہے اور لفظ مخابرۃ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کی نوعیت عام مزارعت سے جدا تھی۔لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ: مخابرہ کے معنے ہیں یہود خیبر کے ساتھ ٹھیکہ جو خاص حالات میں معاہدہ بٹائی کی صورت میں منعقد ہوا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۹) باب ۱۰ کی روایت میں عمرو بن دینار اور طاؤس کی گفتگو کا ذکر ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ مخابرہ ان کی گفتگو میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہے؛ جس کے معنے مزارعت ہی کے تھے۔فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ کے الفاظ سے ان کا اشارہ روایت نمبر ۲۳۲۷ کی طرف ہے، جو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور جس میں اس امر کی صراحت ہے کہ اُن دنوں اراضی کے لگان میں سونا چاندی دینے کا رواج نہ تھا۔بلکہ بٹائی کا رواج تھا۔طاؤس کی نسبت مسلم اور نسائی" نے نقل کیا ہے کہ وہ سونے اور چاندی کے بدلے ٹھیکہ پر زمین دینا نا پسند کرتے تھے کیلیے جبکہ عمرو بن دینار کے نزدیک یہ جائز تھا۔چنانچہ اپنے قول کی تصدیق کرانے کی غرض سے وہ انہیں حضرت رافع بن خدیج کے پاس لے گئے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۹) مذکورہ بالا روایت سے یہ ثابت کرنا مقصود نہیں کہ کونسی صورت بہتر ، جائز یا ناجائز ہے۔بلکہ صرف لفظ مخابرہ کی وجہ تسمیہ بتانا چاہتے ہیں۔چنانچہ بابا کے عنوان سے بھی یہی بتایا گیا ہے کہ مخابرہ کی مذکورہ بالا صورت (یعنی بغیر معین میعاد کے ٹھیکہ ) صرف یہود ہی کے ساتھ مخصوص تھی۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر پیکار رہے اور ان کی صلح وغیرہ تسلی بخش نہ تھی۔امام شافعی کے نزدیک مخابرہ اور مزارعہ میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر سمجھوتے کا تعلق زمین کی پیداوار میں ایک معین حصے سے ہے اور ثانی الذکر سمجھوتے میں زمین ٹھیکے پر دینے اور اس میں اپنی مرضی سے کاشت کرنے اور پیداوار کا ایک معین حصہ لینے دینے سے۔لیکن جمہور کے نزدیک دونوں سمجھوتے ایک ہی قسم کے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۱۹،۱۶) بَاب ۱۲ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي الْمُزَارَعَةِ جوشرطیں بٹائی میں ناپسندیدہ ہیں (ان کا بیان ) ۲۳۳۲ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ :۲۳۳۲: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى سَمِعَ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سکی (مسلم، كتاب البيوع، باب الأرض تمنح (نسائی، کتاب الأيمان والنذور، باب ذكر الاحاديث المختلفة في النهي عن كراء الأرض)