صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 315 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 315

صحيح البخاری جلدم ۳۱۵ ا - كتاب الحرث والمزارعة بَابِ ٥ : إِذَا قَالَ اكْفِنِي مَنُوْنَةَ النَّخْلِ وَغَيْرِهِ وَتُشْرِكُنِي فِي الثَّمَرِ اگر کوئی کہے کہ میری جگہ کھجور کے درخت یا دوسرے درختوں میں تم محنت کرو اور پھلوں میں مجھے بھی شریک کرلو ( تو کیا یہ جائز ہوگا ) ٢٣٢٥ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعِ :۲۳۲۵: حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ نے ہمیں خبر دی۔(اس نے کہا:) ابو زناد نے ہمیں بتایا۔الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ قَالَ قَالَتِ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله الله سے روایت کی۔کہا کہ انصار نے نبی ﷺ سے عرض کیا۔ہمارے اور ہمارے بھائیوں (مہاجرین) کے درمیان کھجوروں کے درخت تقسیم کر دیجئے۔آپ نے فرمایا: نہیں۔تب انصار نے (مہاجرین سے ) کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيْلَ قَالَ لَا فَقَالُوْا تَكْفُوْنَا الْمَنُوْنَةَ وَنَشْرَكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ قَالُوْا سَمِعْنَا تم ہماری جگہ محنت کرو اور ہم تمہیں میوے میں شریک وَأَطَعْنَا۔اطرافه: ۲۷۱۹، ۳۷۸۲ تشریح: کریں گے۔انہوں نے کہا: اچھا۔ہم نے قبول کیا۔اكْفِنِي مَؤُوْنَةَ النَّخْل : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انفرادی ملکیت میں دخل دینے سے انکار فرمایا۔مگر انصار رضوان اللہ علیہم نے از خود مہاجرین کو اپنے باغوں کی پیداوار میں شریک کیا کہ وہ ان میں آبپاشی اور نگرانی وغیرہ کا کام کریں اور حاصلات سے فائدہ اُٹھا ئیں۔اُن کا یہ نیک سلوک قابل قدر ہے۔قَالَتِ الْأَنْصَارُ لِلنَّبي الله اقسم : انصار کا مطالبہ تقسیم کس قسم کا تھا ؟ اس بارہ میں روایت مذکور خاموش ہے۔لیکن بعض شارحین کا خیال ہے کہ بیعت عقبہ جو وادی مکہ میں ہجرت سے قبل ہوئی تھی ، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری مدینہ پر یہ شرط بھی عائد کی تھی کہ وہ مہاجرین سے ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں گے۔اسی وجہ سے جب مہاجرین مدینہ طیبہ میں آئے تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا ؛ جو قبول نہ ہوا۔نہ تو محض لفظ موآسات یا موآخات کا یہ مفہوم ہے اور نہ کسی کو کسی سے ایسا مطالبہ کرنے کا حق پہنچتا ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک یہ تو جیہ رکیک ہے۔کیونکہ اگر مطلق مواسات کی شرط سے مہاجرین اپنا حق سمجھتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے کی ضرورت نہ تھی۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۱۲) عمدۃ القاری میں اس جگہ اَوْ غَيْرِهِ" کے الفاظ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۶۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔