صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 267
صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۶۷ بالله العالم ٣٩- كتاب الكفالة ٣٩- كِتَابُ الْكَفَالَة 0000000000 بَاب ۱ : الْكَفَالَةُ فِي الْقَرْضِ وَالدُّيُونِ بِالْأَبْدَانِ وَغَيْرِهَا قرض اور لین دین میں بدنی ( اور مالی ) ضمانت کے بارے میں احکامات ۲۲۹۰ : وَقَالَ أَبُو الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ ۲۲۹۰ اور ابو زناد نے محمد بن حمزہ بن عمر واسلمی سے ابْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ عَنْ روایت کرتے ہوئے کہا۔ محمد نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عمر اللہ نے انہیں محصل زکوۃ بنا کر رضي عنه أَبِيْهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَهُ بھیجا تو انہیں وہاں علم ہوا کہ ) ایک آدمی نے اپنی بیوی مُصَدِّقًا فَوَقَعَ رَجُلٌ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ کی لونڈی سے مباشرت کی ہے۔ حمزہ نے اس شخص سے فَأَخَذَ حَمْزَةُ مِنَ الرَّجُلِ كُفَلَاءَ حَتَّى ضامن لیے؛ یہاں تک کہ حضرت عمر کے پاس آئے قَدِمَ عَلَى عُمَرَ وَكَانَ عُمَرُ قَدْ جَلَدَهُ اور سارا واقعہ بیان کیا۔ ) حضرت عمر نے اس کو سو کوڑوں کی سزادی۔ کیونکہ آپ نے واقعہ بیان کرنے مِائَةَ جَلْدَةٍ فَصَدَّقَهُمْ وَعَذَرَهُ والوں کی بات کو بیچ پایا اور تصدیق کی۔ ہاں اس کو مسئلہ بِالْجَهَالَةِ۔ کے نہ جاننے کی وجہ سے ایک حد تک معذور سمجھا۔ وَقَالَ جَرِيرٌ وَالْأَشْعَثُ لِعَبْدِ اللهِ اور حضرت جریر اور حضرت اشعث نے حضرت عبداللہ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فِي الْمُرْتَدِيْنَ اسْتَتِبْهُمْ بن مسعود سے مرتدوں کی نسبت کہا: ان سے تو بہ کراؤ وَكَفَلْهُمْ فَتَابُوْا وَكَفَلَهُمْ عَشَائِرُهُمْ۔ اور ان کی ضمانتیں لو۔ پس انہوں نے توبہ کی اور ان کے قبیلوں نے ان کی ضمانت دی وَقَالَ حَمَّادٌ إِذَا تَكَفَّلَ بِنَفْسٍ اور حماد نے کہا: اگر کوئی شخص کسی کا کفیل ہوا ہو اور فَمَاتَ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ۔ وَقَالَ الْحَكَمُ (جس کا کفیل ہوا ہے ) وہ مر جائے تو ضامن کے ذمہ يَضْمَنُ۔ کچھ نہ ہوگا۔ حکم نے کہا: ضمانت ادا کرنی ہوگی۔