صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 709
صحيح البخاري - جلد ٣ 2+9 ٣٣- كتاب الاعتكاف اعْتَكَفَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کے ساتھ اعتکاف کیا ہو، وہ واپس آ جائے۔چنانچہ جو وَسَلَّمَ فَلْيَرْجِعْ فَرَجَعَ النَّاسُ إِلَى لوگ چلے گئے تھے وہ بھی مسجد میں واپس آگئے۔اس الْمَسْجِدِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَرَعَةً وقت حالت یہ تھی کہ ہم آسمان میں کوئی ابر کا ٹکڑ انہیں قَالَ فَجَاءَتْ سَحَابَةٌ فَمَطَرَتْ دیکھتے تھے۔راوی نے کہا: (اچانک ) بادل آیا اور وَأُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَسَجَدَ رَسُوْلُ اللهِ مینہ برسا اور جب نماز کے لئے تکبیر اقامت ہوئی اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطِّيْنِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیچڑ اور پانی میں سجدہ وَالْمَاءِ حَتَّى رَأَيْتُ الطَّيْنَ فِي أَرْنَبَتِهِ کیا؛ یہاں تک کہ میں نے آپ کی ناک اور پیشانی پر کیچڑ لگی ہوئی دیکھی۔وجبهته۔اطرافه: ٦٦٩، ۸۱۳، ۸۳۶، ۲۰۱۶، ۲۰۱۸، ۲۰۲۷، ۲۰۱۰ تشریح الْإِعْتِكَافُ : اعتکاف کے بارے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ وہ کس وقت سے شروع ہو؟ مغرب کے وقت یا صبح کے وقت۔روایت نمبر ۲۰۲۷ ( زیر باب نمبرا) میں جو امام مالک سے مروی ہے، یہ الفاظ گذر چکے ہیں : حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ۔جب رمضان کی اکیسویں رات ہوئی جس رات کی صبح آپ کو اپنے اعتکاف سے نکلنا تھا۔یہی روایت ایک اور سند سے نمبر ۲۰۱۸ میں منقول ہے۔جس میں ذکر ہے کہ میں راتیں گذرنے پر اکیسویں رات ہوئی تو آپ اپنے قیام کی جگہ کوٹ گئے۔خواب دیکھنے پر بوقت صبح لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اپنے اعتکاف میں واپس آ جاؤ۔ان روایتوں کے اسلوب بیان سے جو لفظی اختلاف بظاہر نظر آتا ہے۔اس کی وضاحت باب ۹ میں کی گئی ہے کہ بیسویں رات کی صبح اکیسویں تاریخ کا دن ہے، اسی اسلوب بیان کے مطابق قرآن مجید میں یہ آیت وارد ہوئی ہے: وَلَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةٌ اَوْ ضُحَهَا (النزعت : ۴۷) یعنی وہ نہ ٹھہرے مگر ایک شام یا صبح۔اس آیت میں صبح کو گذری ہوئی شام کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: اعتکاف بیسویں کی صبح کو بیٹھتے ہیں۔کبھی دس دن ہو جاتے ہیں اور کبھی گیارہ بَاب ۱۰ : اِعْتِكَافُ الْمُسْتَحَاضَة ( الفضل ۳ نومبر ۱۹۱۴ء) مستحاضہ عورت کا اعتکاف بیٹھنا ۲۰۳۷: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ :۲۰۳۷ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ زُرَیج نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد سے، خالد نے عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتِ عکرمہ سے عکرمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے