صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 56 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 56

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۶ ٢٤ - كتاب الزكاة حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدَةَ عثمان بن ابی شیبہ نے عبدہ سے روایت کرتے ہوئے وَقَالَ لَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللهُ عَلَيْكِ ۔ یہی حدیث ہم سے بیان کی اور یہ الفاظ کہے: گفتے نہ رہا کرو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کر ہی دے گا۔ اطرافه: ١٤٣٤، ٢٥٩٠، ٢٥٩١۔ تشريح : التَّحْرِيضُ عَلَى الصَّدَقَةِ وَالشَّفَاعَةُ فِيهَا : تحریض اور شفا اور شفاعت میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر کے معنی ہیں صدقہ کی خوبی رقہ کی خوبیاں بیان کر کے ترغیب دلانا اور شفاء نا اور شفاعت کے معنی ہیں کسی سائل کی حاجت براری کے لئے سفارش کرنا۔ دونوں طرح سے انسان محتاجوں کی راحت کا ذریعہ بن کر صدقہ کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔ اس باب کے ضمن میں تین روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ پہلی روایت کتاب العیدین میں مفصل گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب العیدین باب ۱۸ روایت نمبر ۷ ۹۷۔ دوسری روایت کتاب الادب زیر روایت نمبر ۶۰۲۷ میں مفصل آئے گی۔ تیسری روایت سے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یہ کہ عام وعظ میں صدقہ کے بارے میں نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ بلکہ حسب موقع فرداً فرداً بھی مؤثر پیرایہ میں تحریک فرماتے ۔ جیسا کہ حضرت اسماء کو آپ نے تحریک فرمائی۔ نیک تحریک سے قوم میں بیداری پیدا ہوتی ہے اور غافل انسان بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ صدقات سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر عمل نہایت ضروری ہے۔ آپ نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ نیک تحریک بھی صدقہ ہی کی ایک ہے۔ ( باب ۳۰ روایت نمبر ۱۴۴۵) جس میں بھلی بات بھی صدقہ کی طرح کفارہ گناہ قرار دی گئی ہے ۔ وعظ و ہے۔ و نصیحت اور وعظ نیک کاموں کی تلقین قوم میں نیک روح پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے میں محمد ہوتے ہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء کو نصیحت فرمائی اور وہ ان مشہور خواتین میں سے ہوئیں جو محتاجوں کی حاجت روائی میں ایک اعلیٰ نمونہ تھیں۔ اگر ان کے پاس نہ ہوتا تو قرض لے کر بھی حاجت مند کی حاجت پوری کرتیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد میں ان لوگوں کے لئے سبق ہے جو اس لئے صدقہ دینے میں متامل ہوتے ہیں کہ ہم تبلیغ پر ( یا کسی اور مد میں ) خرچ کر چکے ہیں۔ ان کا یہ فعل اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک قسم کا بہی کھاتہ کھولنا ہے اور یہی منشاء ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا جو حضرت اسماء سے آپ نے فرمایا کہ گن گن کر نہ دو۔ ورنہ تم سے بھی ایسا ہی سلوک ہوگا۔ قسم باب ۲۲ : الصَّدَقَةُ فِيْمَا اسْتَطَاعَ صدقہ دینا جتنی بھی استطاعت ہو ١٤٣٤ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۱۴۳۴ ابو عاصم (ضحاک) نے ابن جریج سے جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ روایت نقل کرتے ہوئے ہمیں بتایا اور محمد بن