صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 687
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۸۷ ۳۲- کتاب فضل ليلة القدر رمضان کا لفظ رَمَضَ سے مشتق ہے جس کے معنے شدت تپش ہیں ۔ (لسان العرب رمض) سالک کے لئے راہ سلوک میں سوز ، محبت، شدید ابتلاء بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں ابتلاؤں کے زمانہ کو بھی شب تاریک سے مشابہت دی گئی ہے۔ دیکھئے تفسیر کبیر مؤلفہ حضرت مصلح موعود تشریح آیت وَ الْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ( جلد ۸ صف ۵۰۴ تا ۵۰۸) نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ سب پیاسوں سے نکوتر تیرے منہ کی ہے پیاس جس کا دل اُس سے ہے بریاں پا گیا وہ آبشار جس کو تیری دھن لگی آخر وہ تجھ کو جا ملا جس کو بے چینی ہے یہ وہ پا گیا آخر قرار عاشقی کی ہے علامت گریہ و دامان دشت کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اکل و شرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار عشق اہے جس ۔ سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے ہے جو جو سر سر ج جھکا دے زیر تیغ آب دار (براہین احمدیہ حصہ پنجم - روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۳۹، ۱۴۰) یہی وہ کیفیات ہیں جن کا لفظ رمضان طلبگار ہے اور یہی والہانہ جذبات ہیں جو مومن کے لئے وصالِ الہی کی راتیں آسان کر دیتے ہیں۔ مذکورہ عنوان کے تحت مندرجہ روایات سے دو باتیں واضح ہیں۔ اول یہ کہ امام بخاری کے نزدیک لیلۃ القدر سے متعلق بہت سی روایات جو عام طور پر مشہور ہیں اُن کے نزدیک پا یہ اعتبار سے ساقط ہیں سوائے اُن احادیث کے جو بعد حد تحقیق انہوں نے قبول کیں۔ اس تعلق میں نہایت قیمتی معلومات نا معلومات کے لئے تفسیر کبیر کا مطالعہ کیا جائے ۔ جہاں عقلی او عقلی اور نقلی دلائل سے مختلف روایات پر بسیط جرح و قدح ہے اور امام راغب وغیرہ ائمہ لغت کے معانی مد نظر رکھ کر قرآن مجید کی آیات اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں لیلۃ القدر کی حقیقت و فضیلت واضح فرمائی گئی ہے۔ (تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ القدر جلد ۹) علاوہ ازیں اس تعلق میں براہین احمدیہ حصہ چہارم - روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۴۱۸ بھی دیکھئے۔ بَاب ۲ : الْتِمَاسُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ رمضان کی آخری سات راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش ٢٠١٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۰۱۵: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے نافع سے، نافع عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رِجَالًا مِّنْ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی لوگوں کو آخری أَرُوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ سات راتوں میں لیلۃ القدر خواب میں دکھائی گئی تو