صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 500
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۰۰ ۲۸ - كتاب جزاء الصيد وَحْشِ فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ حضرت ابوقتادہ نے ان گورخروں پر حملہ کر دیا اور ان مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوْا فَأَكَلُوا مِنْ میں سے ایک مادہ گورخر زخمی کی اور وہ اُترے اور اس لَّحْمِهَا وَقَالُوْا أَتَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ کے گوشت سے کھایا۔اور کہنے لگے: کیا ہم شکار کا گوشت کھا ئیں ایسی حالت میں کہ ہم محرم ہوں؟ اس وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ کا جو گوشت باقی بچا تھا؛ وہ ہم نے اُٹھا لیا۔جب وہ لَّحْمِ الْأَتَانِ فَلَمَّا أَتَوْا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّا کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے احرام باندھے تھے اور كُنَّا أَحْرَمْنَا وَقَدْ كَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ ابوقتادہ نے نہیں باندھا تھا۔پھر ہم نے کئی گورخر يُحْرِمُ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشِ فَحَمَلَ دیکھے۔ابو قتادہ نے ان پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلْنَا مادہ ماری اور ہم اُترے اور اس کے گوشت سے کھایا۔فَأَكَلْنَا مِنْ أَحْمِهَا ثُمَّ قُلْنَا أَتَأْكُلُ لَحْمَ پھر ہم کہنے لگے: کیا شکار کا گوشت ہم کھا ئیں جبکہ ہم صَيْدِ وَنَحْنُ مُحْرِمُوْنَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ محرم ہیں؟ ہم اس کا بچا ہوا گوشت اٹھا لائے ہیں۔مِنْ لَّحْمِهَا قَالَ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ آپ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں؟ یا اس کی طرف اشارہ کیا يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا قَالُوْا لَا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: پھر جو اس قَالَ فَكُلُوْا مَا بَقِيَ مِنْ أَحْمِهَا۔کا گوشت بچا ہوا ہے، کھاؤ۔اطرافه ،۱۸۲۱ ، ۱۸۲۲ ، ۱۸۲۳، ٢٥۷۰، ۲۸٥٤، ۲۹۱٤ ، ٤١٤۹، ٥٤٠٦، ٥٤٠٧، ٥٤٩٠ ٥٤٩١ ٥٤٩٢ بَاب ٦ : إِذَا أَهْدَى لِلْمُحْرم حِمَارًا وَحْشِيَّا حَبًّا لَّمْ يَقْبَلْ جب کوئی شخص محرم کو زندہ گورخر بطور تحفہ دے تو وہ قبول نہ کرے ١٨٢٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۸۲۵: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْن عَبْدِ اللَّهِ بْن عُتْبَةَ بن ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ امنکم ہے۔(فتح الباری جزء ۲ حاشیہ صفحہ ۳۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔