صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 465
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۶۵ ٢٦ - كتاب العمرة سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ رَجُلٍ طَافَ بِالْبَيْتِ فِي عُمْرَةٍ وَلَمْ عنہا سے ایسے شخص کی نسبت پوچھا؟ جس نے عمرہ میں يَطُفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کا طواف نہ کیا؟ کیا امْرَأَتَهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وہ اپنی بیوی سے مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى في صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں ) آئے اور بیت اللہ کا خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ سات بار طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں نماز پڑھی اور صفا اور مروہ کے درمیان سات الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا وَقَدْ كَانَ لَكُمْ بار طواف کیا اور یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ فِي رَسُوْلِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ علیہ وسلم میں قابل پیروی نیک نمونہ ہے۔ اطرافه ٣٩٥، ١٦٢٣، ١٦٢٧ ، 1645، 1647۔ ١٧94: قَالَ وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ ۱۷۹۴: (عمرو بن دینار نے) کہا: ہمہ دینار نے) کہا: ہم نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوْفَ بَيْنَ الصَّفَا کہا: وہ (اپنی بیوی کے ) قریب نہ جائے؛ جب تک وَالْمَرْوَةِ۔ اطرافه: ٣٩٦، ١٦٢٤، ١٦٤٦۔ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرلے۔ ١٧٩٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۱۷۹۵: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر (محمد حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ بن جعفر ) نے ہمیں بتایا؛ ( کہا: ) شعبہ نے ہم سے بیان مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي کیا۔ انہوں نے قیس بن مسلم سے، قیس نے طارق بن مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رے قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں نبی ﷺ کے پاس وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ مُنِيخٌ فَقَالَ بطحاء میں حاضر ہوا۔ جبکہ آپ وہاں اُترے ہوئے تھے أَحَجَجْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ بِمَا أَهْلَلْتَ تو آپ نے فرمایا: کیا حج کا قصد ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔