صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 464
صحيح البخاری جلد۳ م ۶ ٢٦- كتاب العمرة :۱۷۹۱ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ ۱۷۹۱: اسحق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں إِبْرَاهِيْمَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ إِسْمَاعِيْلَ عَنْ نے جریر سے، جریر نے اسماعیل سے، اسماعیل نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ اعْتَمَرَ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کی۔انہوں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کیا اور ہم نے بھی وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ آپ کے ساتھ عمرہ کیا۔جب آپ مکہ میں داخل ہوئے وَطُفْنَا مَعَهُ وَأَتَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ تو آپ نے طواف کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا اور آپ صفا اور مروہ میں آئے اور ہم بھی وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ آپ کے ساتھ وہاں آئے۔اور ہم اہل مکہ سے آپ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ کی آڑ بنے ہوئے تھے۔مبادا کوئی آپ کی طرف تیر لِي أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ لَا۔پھینکے تو میرے ایک ساتھی نے (حضرت ابن ابی اوفی سے پوچھا: کیا آنحضرت می کعبہ میں داخل اطرافه ہوئے تھے؟ تو انہوں نے کہا نہیں۔۱۷۹۲: قَالَ فَحَدِّثْنَا مَا قَالَ ۱۷۹۲ پھر اس نے کہا: اچھا ہم سے آپ بیان کریں لِخَدِيجَةَ قَالَ بَشِّرُوا خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ سے مِّنَ الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبِ لَا صَخَبَ فِيْهِ متعلق فرمایا تھا۔( تو انہوں نے کہا: ) آپ نے فرمایا کہ خدیجہ کو جنت میں ایک ایسے گھر کی بشارت ہو جو وَلَا نَصَبَ۔اطرافه: ۳۸۱۹ خول دار موتیوں کا ہے نہ اس میں شور وغل ہے اور نہ کسی قسم کی تکلیف۔۱۷۹۳: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ :۱۷۹۳: حمیدی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ کہا کہ سفیان نے ہمیں بتایا: عمرو بن دینار سے مروی