صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 460 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 460

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٦ - كتاب العمرة فَكُنْتُ حَتَّى نَفَرْنَا مِنْ مِنِّى فَنَزَلْنَا اسی طرح رہی ؛ یہاں تک کہ ہم منی سے چل پڑے اور الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَن فَقَالَ محقب میں اُترے تو آپ نے عبدالرحمن کو بلایا اور اخْرُجُ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهلَّ فرمایا: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ کہ وہ عمرہ کا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طُوَافِكُمَا لبیک پکار کرعمرہ کا احرام باندھ لیں۔پھر تم دونوں طواف بیت اللہ کر لو۔میں تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا تو أَنْتَظِرْكُمَا هَاهُنَا فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ ہم آدھی رات کو واپس آئے۔آپ نے فرمایا: کیا تم اللَّيْلِ فَقَالَ فَرَغْتُمَا قُلْتُ نَعَمْ فَنَادَى دونوں ( طواف سے فارغ ہو گئے ہو؟ میں نے کہا: بِالرَّحِيْلِ فِي أَصْحَابِهِ فَارْتَحَلَ النَّاسُ ہاں۔پھر آپ نے اپنے صحابہ میں کوچ کی منادی کروائی وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ اور لوگوں نے کوچ کیا اور انہوں نے بھی جنہوں نے ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ۔صبح کی نماز سے پہلے بیت اللہ کا طواف وداع کر لیا تھا۔پھر آپ مدینہ کی طرف رُخ کر کے روانہ ہو گئے۔اطرافه ،۲۹٤، ۳۰۵، ٣١٦، ،۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، ١٥١٦، ١٥١٨، ١٥٥٦، ١٥٦٠، ،١٧٥٧، ١٧٦٢ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱۶۰۰ ،۱۶۳۸ ،۱١٥٦١، ٥٦٢ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۷، ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ، ۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ۷۲۲۹ ،٤٤٠٨ ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩ ٦١٥٧ تشریح: الْمُعْتَمِرُ إِذَا طَافَ طَوَافَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ خَرَجَ : عمر تمھیم میں حضرت عائشہ طواف عمرہ کر کے مکہ مکرمہ سے لوٹیں اور طواف الوداع نہیں کیا۔جس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ وہی ایک طواف بطور طواف الوداع بھی تھا۔الگ طواف کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔کتاب الحج روایت نمبر ۱۷۵۵ میں بھی بتایا جا چکا ہے کہ حائضہ کو طواف الوداع سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک روایت نمبر ۱۷۸۸ کے آخری الفاظ وَمَنْ طَافَ سے مراد ثُمَّ طَافَ ہے۔کیونکہ مسلم کی روایت میں فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيْلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ ہے۔(مسلم، کتاب الحج، باب بیان وجوه الإحرام) یعنی آپ نے اپنے صحابہ میں کوچ کا ارشاد فرمایا۔پھر آپ نکلے اور بیت اللہ کی طرف گئے اور صبح کی نماز سے پہلے اُس کا طواف کیا۔پھر آپ مدینہ کی طرف چل پڑے۔اور ابوداؤد کی روایتوں میں منقول ہے: فَاذْنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيْلِ فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِيْنَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ۔(ابو داؤد، كتاب المناسک، باب طواف الوداع) یعنی آپ نے اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان فرمایا۔پھر آپ چل پڑے اور صبح کی نماز سے پہلے بیت اللہ کی طرف گئے اور اُس کا