صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 445 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 445

صحيح البخاري - جلد۳ ۴۴۵ صلى ٢٦ - كتاب العمرة دیا ہے۔فرمایا: أَتِمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ۔(البقرة: ۱۹۷) اور اسی عبادت مسلسل کی وجہ سے قرآن کریم میں بیت اللہ کو بطور پیشگوئی الْبَيْتُ الْمَعْمُور سے موسوم کیا ہے۔(الطور : ۵) یعنی وہ گھر جو ذکر الہی سے ہمیشہ آبادرہنے والا ہے۔عمرے میں بھی حج کی طرح میقات سے احرام باندھنا، احلال اور تلبیہ وغیرہ امور کا لوظ رکھنا ضروری ہے۔(کتاب الج باب ۵۰۴ کتاب العمرة باب ۱۰) البتہ اس میں اجازت ہے کہ سال میں کسی وقت بھی کیا جائے۔دور سے آنے والے لوگ حج کے ایام میں ہی عمرہ کر سکتے ہیں۔عمرے کے واجب ہونے یا نہ ہونے کے بارہ میں ائمہ میں اختلاف ہے۔امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک عمرہ نفل ہے واجب نہیں۔ان کا استدلال حجاج بن ارطاہ کی روایت سے ہے جو بسند محمد بن منکد رحضرت جابر سے مروی ہے کہ ایک بدوی نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ آیا عمرہ واجب ہے؟ تو آپ نے فرمایا نہیں۔لیکن کیا جائے تو بہتر ہے۔(ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء في العمرة أواجبة هي أم لا) حجاج جس سے یہ روایت ہے، ثقہ نہیں۔امام شافعی و امام احمد بن حنبل کے نزدیک عمرہ واجب ہے۔ان کا استدلال علاوہ آیات محولہ بالا کے ان روایتوں سے بھی ہے۔جن کا حوالہ عنوان باب میں دیا گیا ہے۔حضرت ابن عمر کی روایت ابن خزیمہ نے موصول نقل کی ہے۔یے اور حضرت ابن عباس کی روایت امام شافعی وسعید بن منصور سے موصولاً مروی ے (فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۳ ۷۵-۷۵۴) عمرے کی فضیلت کے بارہ میں استدلال روایت نمبر ۷۷۳ اسے کیا ہے کہ وہ گناہوں کا کفارہ ہے۔بار بار دعاؤں اور توجہ الی اللہ کا نیک اثر نفس انسانی پر لازما ہوتا ہے اور اسی مبارک اثر سے آہستہ آہستہ میلان گناہ بھی دور ہو جاتا ہے۔اسلام میں کفارے کے یہی معنی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ۔(هود: ۱۱۵) یقینا نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔اور فرماتا ہے: إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (الفرقان: (ا) { سوائے اس کے جو تو بہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے۔پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی بدیوں کو اللہ خوبیوں میں بدل دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔} بَاب ٢ مَنِ اعْتَمَرَ قَبْلَ الْحَج جس نے حج سے پہلے عمرہ کیا ١٧٧٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۷۷۴ احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ابن جریج نے ہمیں (بن عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ بتایا کہ مکرمہ بن خالد ( مخزومی ) نے حضرت ابن عمر (صحیح ابن خزیمه، کتاب المناسک جماع ابواب ذکر العمرة ، باب ذكر البيان ان العمرة فرض جز ۲ صفحه ۳۵۶، روایت نمبر ۳۰۶۶) الأم للشافعي، كتاب الحج، باب هل تجب العمرة، جزء ۲ صفحه ۱۳۲)