صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 437
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۳۷ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ١٤٨ : النُّزُولُ بِذِي طُوًى قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَالنُّزُولُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ إِذَا رَجَعَ مِنْ مَّكَّةَ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام ذی طولی میں اُترنا اور جب مکہ سے واپس لوٹے تو بطحاء میں جو کہ ذو الحلیفہ میں ہے اُترنا ١٧٦٧ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۱۷۶۷: ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ابو ضمرہ نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ کیا ۔ نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا عَنْهُمَا كَانَ يَبِيْتُ بِذِي طُوًى بَيْنَ ذی طوی مقام میں دو گھاٹیوں کے درمیان رات الثَّنِيَّتَيْنِ ثُمَّ يَدْخُلُ مِنَ الثَّنِيَّةِ الَّتِي گزارتے ۔ پھر اس گھائی سے داخل ہوتے جو مکہ کے بِأَعْلَى مَكَّةَ وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ حَاجًا بالائی حصہ میں ہے اور جب حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ أَوْ مُعْتَمِرًا لَمْ يُنِخْ نَاقَتَهُ إِلَّا عِنْدَ بَابِ میں آتے تو اپنی اونٹنی کو دروازہ مسجد ( بیت اللہ ) کے الْمَسْجِدِ ثُمَّ يَدْخُلُ فَيَأْتِي الرُّكْنَ پاس بٹھاتے۔ پھر مسجد میں جا کر حجر اسود کے پاس الْأَسْوَدَ فَيَبْدَأُ بِهِ ثُمَّ يَطُوْفُ سَبْعًا ثَلَاثًا آتے اور وہاں سے شروع کرتے۔ پھر وہ سات بار سَعْيًا وَأَرْبَعًا مَشْيًا ثُمَّ يَنْصَرِفُ طواف کرتے۔ تین بار تیز قدم اور چار بار معمولی رفتار فَيُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَنْطَلِقُ قَبْلَ أَنْ ہے۔ پھر وہاں سے فارغ ہوتے اور دو رکعتیں يَرْجِعَ إِلَى مَنْزِلِهِ فَيَطُوْفُ بَيْنَ الصَّفَا پڑھتے۔ پھر وہ اپنے گھر جانے سے پہلے چل پڑتے وَالْمَرْوَةِ وَكَانَ إِذَا صَدَرَ عَنِ الْحَقِّ اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے اور جب حج و عمرہ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي سے فارغ ہو کر لوٹتے تو اس میدان میں اپنی اونٹنی الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا ۔ اطرافه: ٤٩١، ١٧٦٩ بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے؛ وہ جگہ جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی بٹھایا کرتے تھے۔