صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 300 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 300

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۰۰ ٢٥ - كتاب الحج احتیاط چاہیے۔ (کتاب الغسل باب ۲۰ و ۲۱) اگرچہ آیت میں زینت سے مرادز بینت اللہ ہے جو احکام الہی کی پیروی سے انسان کی روحانی تخلیق میں تناسب پیدا کرتی ہے جو اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب شئے قرار دی گئی ہے۔ لیکن جسمانی زینت جو لباس سے حاصل ہوتی ہے وہ اس ارشاد سے باہر نہیں۔ ظاہر و باطن کے حالات کا آپس میں گہرا ارتباط ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۴ تا ۸ ۔ روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۸ تا ۳۲۲ زمانہ جاہلیت میں عرب قبائل خصوصاً بنو عمرو کے قبیلے اپنے کپڑوں میں جن کو گناہوں کی وجہ سے اس قابل نہیں سمجھتے تھے کہ ان میں طواف کیا جائے ۔ مرد دن کو اور عورتیں رات کو برہنہ ہو کر طواف کرتیں۔ بیت اللہ کے دروازے پر پہنچ کر اگر انہیں نذرانے کے کپڑوں میں سے یا کسی شخص کی طرف سے کوئی کپڑا مل جاتا وہ پہن لیا جاتا ورنہ نہیں۔ ایسے کپڑے کو عربی میں تطواف کہتے ہیں۔ قریش خود ننگے بدن طواف نہیں کرتے تھے اور دوسروں کے لئے ضروری سمجھتے کہ یا تو ان سے کپڑا لے کر طواف کریں یا ننگے بدن ۔ یہ بدعت انہوں نے روزی کمانے کے لئے جاری کی تھی۔ (بلوغ الأرب، فضل مكة وذكر شيئ من حال رؤسائها وأشرافها، جزء اول صفحه ۲۴۴) نیز اس تعلق میں دیکھئے روایت نمبر ۱۲۶۵۔ بعض عورتیں چمڑے کے تسموں سے بنا ہوا استر اپنی کمر میں برہنگی چھپانے کے لئے پہن لیتی تھیں۔ عبداللہ بن جدعان کی بیوی ضباعہ بنت عامر بن صعصعہ نے برہنہ ہو کر ایک ہفتہ بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس کی طرف یہ شعر منسوب ہے جو وہ اثنائے طواف بطور تلبیہ پڑھتی تھی۔ الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ (مسلم، كتاب التفسير ، باب في خذوا زينتكم عند كل مسجد) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۲۶۶) بعض آج اس کا ایک حصہ یا سارا ظاہر ہے۔ جو ظاہر ہے اسے ہم کسی کے لئے جائز نہیں ٹھہراتے۔ قریش برہنگی کا یہ نظارہ کرنے کے لئے کے اکٹھے ہو جاتے۔ آج کل بھی ہندوؤں کے مشہور تہواروں اور ہر دا اور ہردواروں پر بریلی کا پر برہنگی کا ثواب سمجھی جاتی ہے۔ بعد قدیم عربی قبائل میں بھی اس قسم کا رواج پایا جاتا تھا۔ اسلام نے اس برہنگی کو منع کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو وھ میں حج کے موقع پر اس ممانعت کے متعلق بھی اعلان کرنے کے لئے ارشاد فرمایا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ بھی اس وقت ان کے ساتھ تھے۔ باب ٦٨ : إِذَا وَقَفَ فِي الطَّوَافِ اگر طواف کے دوران ٹھہر جائے وَقَالَ عَطَاءٌ فِيْمَنْ يَطُوْفُ فَتُقَامُ اور عطاء نے اس شخص کی نسبت کہا: جو طواف کر رہا ہو الصَّلَاةُ أَوْ يُدْفَعُ عَنْ مَّكَانِهِ إِذَا سَلَّمَ اور نماز کی تکبیر کہی جائے یا اسے اس کی جگہ سے ہٹایا