صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 558 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 558

صحيح البخاري - جلد ۲ ۵۵۸ ١٩ - كتاب التهجد فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ فُلَانُ بْنُ کر دھویا ۔ آپ نے اس پر دور رکعتیں پڑھیں اور فلاں فُلَانِ بْنِ جَارُودٍ لِأَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (یعنی عبدالحمید ) جو کہ فلاں ابن جارود (یعنی ابن منذر ) أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے بیٹے تھے، نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ وسلم چاشت کی نماز پڑھا يُصَلِّي الضُّحَى فَقَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمِ۔ اطرافه: ٦٧٠، ٦٠٨٠۔ : سے پوچھا: کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے آپ کو سوائے اس دن کے پڑھتے نہیں دیکھا۔ تشريح : صَلَاةُ الضُّحَى فِي الْحَر : بعض فقہاءکا خیا ہے کہ یصلی اللہ علہ سلم نے تح مکہ کے دن سفر کی حالت میں جو چاشت کے وقت نماز پڑھی تھی وہ بطور شکرانہ تھی ۔ ایسا ہی بدر کے دن بھی جب آپ کو ابو جہل کے قتل کی خبر پہنچی تو چاشت کے وقت نماز ، وقت نماز پڑھی۔ حضرت عتبان کے گھر جا کر جب آپ نے دو نفل پڑھے تھے تو وہ وقت اتفاق سے چاشت کا تھا۔ غرض اُن کے نزدیک یہ نماز مستقل طور پر مسنون نہیں۔ بلکہ کسی نہ کسی وجہ سے پڑھی گئی۔ مثلاً جب آپ مسفر سے واپس آتے تو دن کے پہلے حصہ میں شہر میں داخل ہوتے اور اسی وقت مسجد میں جا کر دور کعتیں پڑھتے اور یہ وقت بھی چاشت کا ہوتا ۔ ی چاشت کا ہوتا ۔ بنابریں حضرت عائشہ عائشہ کے قول : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَبَّحَ سُبْحَةً الضحی سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے پابندی کے ساتھ ہمیشہ اسے نہیں پڑھا۔ وَإِنِّي لَا سَبِّحُها اور میں تو اسے ہمیشہ پڑھتی ہوں۔ امام مسلم کی ایک روایت سے بھی اسی مفہوم کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے عبداللہ بن شقیق کی یہ روایت نقل کی ہے: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ النَّبِيُّ لا يُصَلِّى الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مُغِيبِهِ۔ (مسلم) كتاب صلاة المسافرين وقصرها۔ باب استجاب الصلاة الضحى) { میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا: کیا نبی چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں ۔ سوائے اس کے کہ آپ سفر سے واپس آتے ( تو پڑھتے تھے )} اگلے باب کی روایتیں بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ جنہوں نے انکار کیا ہے ، انہوں نے در حقیقت صرف اس بات سے انکار کیا ہے کہ انکار کیا ہے کہ چاشت کی نماز معین صورت ن صورت میں مقررہ تعداد رکعات مات کے ساتھ اور بطور مداومت کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا گیا ۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۷۳۷۲)