صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 540
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۴۰ ١٩ - كتاب التهجد باب ۱۹ میں ہے اور ایک اس وجہ سے کہ پہلے عبادت میں حد سے زیادہ اپنے نفس پر تشدد کرتا ہے اور آخر میں رہ جاتا ہے۔ غرض نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ہر امر میں اعتدال کی حالت پر کھڑا کرنا چاہا ہے۔ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرۃ:۱۴۴) { اور اسی طرح ہم نے تمہیں وسطی امت بنا دیا تا کہ تم لوگوں پر نگران ہو جاؤ اور رسول تم پر نگران ہو۔ درمیانی راہ اختیار کرنے سے ہی انسان کسی کام کی ہمیشہ پابندی کرنے پر قادر ہو سکتا ہے ۔ أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ۔ یعنی سب سے زیادہ پیارا عمل اُسے وہی ہے جسے کرنے والا ہمیشہ کرتا رہے۔ (کتاب الایمان باب ۳۲ روایت نمبر ۴۳ ) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: کتاب الصوم باب ۵۱ ، روایت نمبر ۱۹۶۸۔ باب ۲۱ : فَضْلُ مَنْ تَعَارٌ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى اسے بے ایسے شخص کی فضیلت جو رات کو بے خوابی سے بے قرار ہوا اور پھر وہ (اُٹھ کر ) نماز پڑھے ١١٥٤ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۱۱۵۴ صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ نے جو مسلم کے بیٹے ہیں، ہمیں خبر دی کہ اوزاعی سے مروی حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِي قَالَ حَدَّثَنِي ہے۔ انہوں نے کہا عمیر بن ہانی نے مجھ سے بیان کیا، کہا: جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ جنادہ بن ابی امیہ نے مجھ سے بیان کیا ۔ (انہوں نے کہا : ) الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عبادہ بن صامت نے مجھے بتایا۔ فی صلی الہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَعَارٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَا سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا: جو رات کو بے خوابی سے ۔ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ قرار ہو اور کہے کوئی مجود نہیں مگر ایک اللہ۔ اس کا کوئی الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شریک نہیں۔ اس کی بادشاہت ہے اور اس کی حمد ور وہ ہر شئے پر قادر ہے۔ سب حمد اللہ کے لئے ہے اور پاک ہے اللہ۔ اور شَيْءٍ قَدِيرٌ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا بدیوں سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قدرت مگر قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي أَوْ اللہ ہی کی مدد سے ۔ پھر پھر کہے: اے اللہ ! مغفرت سے مجھے دَعَا اسْتُجِيْبَ فَإِنْ تَوَضَّأَ { وَصَلَّى } نواز یا دعا کرے تو اس کی قبول ہوگی اور اگر وہ وضو بھی کرے قُبِلَتْ صَلَاتُهُ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے نہ اور نماز پڑھے۔ تو اس کی نماز قبول ہوگی ۔ لفظ ”وَ صَلَّی فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ثالث حاشیہ صفحہ (۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔