صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 530 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 530

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۳۰ ١٩ - كتاب التهجد سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: حضرت سمرہ بن جندب النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّؤْيَا رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے قَالَ أَمَّا الَّذِي يُتْلَعُ رَأْسُهُ بِالْحَجَر فَإِنَّهُ ہوئے خواب کی بابت ہم سے بیان کیا۔آپ نے يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفِضُهُ وَيَنَامُ عَنِ فرمایا: وہ شخص جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا، یہ ایسے شخص کا حال ہے جو قرآن کریم کو سیکھتا ہے اور پھر اسے الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ۔چھوڑ دیتا ہے اور نماز فریضہ پڑھے بغیر سو جاتا ہے۔اطرافه ٨٤٥، ١٣٨٦، ٢٠٨٥، ٢٧٩١، 3136، 3354، 4674، 6096، ٧٠٤٧۔تشریح عَقْدُ الشَّيْطَان عَلَى قَافِيَةِ الرَّأْسِ : مذکورہ بالا باب میں دو روایتیں منقول ہیں۔ایک میں غافل شخص کی حالت بیان کی گئی ہے۔تین گرہیں باندھنے سے مراد گہری نیند سلانا ہے۔یہ تشبیہ ہے۔الْمُرَادُ تَشْقِيْلَهُ فِي النَّوْمِ وَ إِطَالَتَهُ فَكَأَنَّهُ قَدْ شُدَّ عَلَيْهِ شَدًّا وَعَقَدَ عَلَيْهِ عُقَدًا۔(عمدة القاری جزءے صفحہ ۱۹۳) یعنی اس تشبیہ سے مراد ہے کہ شیطان اس کو گہری نیند سلا دیتا ہے، جس سے وہ دیر تک سویا رہتا ہے۔گویا نیند کی گرہیں نہایت مضبوطی سے باندھی گئی ہیں جیسے رسی کی تین گر ہیں نہایت مضبوط ہوتی ہیں۔انسان کا ہر فعل بلحاظ اپنے عمل و کیفیات ونتائج کے دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ جو رحمانی ہے، یعنی کرنے والے کو اپنے فعل میں اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے قوانین ملحوظ ہوتے ہیں اور دوسرے شیطانی یعنی کرنے والا اپنے فعل میں اپنی شہوات نفس مد نظر رکھتا ہے۔مثلاً کھانے میں وہ قواعد ملحوظ نہیں رکھتا جو جسمانی و روحانی صحت کے لئے ضروری ہیں۔کھانے کا یہ فعل اس کا شیطانی ہوگا۔اس لئے اس کی نیند بھی اس طرح شیطانی اثر کے تحت ہوگی۔انسان کے تمام افعال ایک دوسرے سے ایسے طور پر وابستہ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی کیفیات سے ضرور متا ثر ہوتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے لئے جن کی نیند شیطانی اثرات کے تحت ہو، ایک علاج بتایا ہے کہ اگر اُن کی آنکھ کھل جائے تو شیطانی وساوس کا مقابلہ کرنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ وہ تسبیح وتحمید میں مشغول ہو جائے۔اس سے غفلت ایک گونہ دور ہو جائے گی اور اگر وضو کر کے نماز پڑھے تو نیند کا غلبہ دور ہوکر طبیعت میں کامل انبساط اور نشاط پیدا ہو جائے گا۔روایت نمبر ۱۱۴۳ یہاں مختصر منقول ہے۔ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دریا میں مختلف عذابوں کا مشاہدہ کرایا گیا تھا۔یہاں جو ٹکڑا روایت مشار الیہا کا نقل کیا گیا ہے، اس میں بے عمل عالم قرآن اور عشاء کی نماز میں غفلت کرنے والے کی سزا کا ذکر ہے۔امام بخاری نے اس روایت کا حوالہ دے کر سابقہ باب کے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے کہ عالم قرآن اگر تہجد گزار نہیں تو گویا وہ تارک قرآن ہے اور اس کی سزا یہی ہے کہ اس کا سر کچلا جائے۔کیونکہ اس نے اپنے دماغ سے جو علم کا محل ہے کام لے کر عمل نہیں کیا اور جو شخص در حقیقت نیند کے غلبہ کی وجہ سے رات کو نہیں اُٹھتا تو گویا وہ شیطان کے زیر اثر ہے۔اس قسم کے استعارہ کی مثالیں پہلے بھی گذر چکی ہیں۔ملاحظہ ہو کتاب الاذان باب ۴ روایت نمبر ۲۰۸ - مشار الیہ خواب مفصل دیکھئے : کتاب الزکوۃ ، باب ۹۳ روایت نمبر ۱۳۸۶۔