صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 514
صحیح البخاری جلد ۲ ۵۱۴ باب ۳: طُولُ السُّجُودِ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ رات کی نماز میں سجدہ لمبا کرنا ١٩ - كتاب التهجد ۱۱۲۳: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ ۱۱۲۳: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ الزُّهْرِي قَالَ نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ الله کہا: عروہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي إِحْدَى عَشْرَةَ وقت گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔یہی آپ کی رَكْعَةً كَانَتْ تِلْكَ صَلَاتَهُ يَسْجُدُ تہجد کی نماز ہوتی۔اس میں آپ سجدہ اتنا (لمبا) السجدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ کرتے کہ جتنے میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں أَحَدُكُمْ خَمْسِيْنَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ آپ کے سر اُٹھانے سے پہلے پڑھ لے۔صبح کی نماز رَأْسَهُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرتے پھر آپ اپنی داہنی الْفَجْرِ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِهِ الْأَيْمَنِ کروٹ پر لیٹ جاتے۔یہاں تک کہ مؤذن آپ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُنَادِي لِلصَّلَاةِ۔تشریح: کے پاس نماز کے لئے آتا۔اطرافه ،٦۲۶، ۹۹٤، ۱۱۳۹، ۱۱٤۰، ۱۱۶۰، ۱۱۷۰، ۶۳۱۰۔طُولُ السُّجُودِ فِى قِيَامِ اللَّيْلِ : بحالت سجده علاوہ تسی و تحمید کے آپ دعا ئیں بھی کرتے تھے۔اس لئے سجدے غیر معمولی لمبے ہوتے۔پچاس آیتیں پڑھنے کا اندازہ صرف قیاساً ہے۔بعض وقت اس سے بھی زیادہ عرصہ تک سجدہ میں رہتے۔کتاب الأذان باب ۱۳۹ میں گذر چکا ہے کہ آپ سجدہ میں تسبیح کس طرح کیا کرتے تھے۔بَابِ ٤ : تَرْكُ الْقِيَامِ لِلْمَرِيضِ بیمار کا تہجد ترک کرنا ١١٢٤ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۱۲۴ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسود سے روایت