صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 488
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۸۸ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة مذکورہ بالا حدیں صرف قیاس پر مبنی ہیں۔اس لئے فقہاء کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ سفر نزدیک کا ہو یا دور کا، نماز قصر کی جائے۔جیسا کہ سفر میں روزہ چھوڑ نا ضروری ہے خواہ مشقت ہو یا نہ ہو۔سَمَّى النَّبِيُّ عل الله يَوْماً وَلَيْلَةٌ سَفَرًا : عنوان باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جس ارشاد کا حوالہ دیا گیا ہے وہ روایت نمبر ۱۹۸۸ میں دیکھئے۔باب کی تینوں روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مسافت کو بھی سفر کہا ہے اور ایک دن کو بھی۔اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کم مسافت سفر نہیں اور ایک دن کی تخصیص میں در حقیقت عورتوں کے ناموس کی حفاظت مد نظر ہے نہ کہ سفر کی تعریف۔اس بارہ میں فقہاء کے پاس کوئی نص صریح نہیں صرف قیاس ہے۔بابه : يَقْصُرُ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَّوْضِعِهِ جب اپنی جگہ سے ( بہ نیت سفر ) نکلے تو قصر کر لے وَخَرَجَ عَلِيٌّ اللهُ فَقَصَرَ وَهُوَ يَرَى اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ( کوفہ سے) نکلے تو الْبُيُوتَ فَلَمَّا رَجَعَ قِيْلَ لَهُ هَذِهِ الْكُرْفَةُ انہوں نے (نماز) قصر کی تھی۔بحالیکہ وہ گھروں کو دیکھ رہے تھے۔جب لوٹ کر آئے ( تو بھی قصر کی۔ان سے کہا گیا: یہ کوفہ آ گیا قَالَ لَا حَتَّى نَدْخُلَهَا۔ہے تو انہوں نے کہا نہیں جب تک کوفہ میں داخل نہ ہوں۔۱۰۸۹: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۱۰۸۹ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سفیان نے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن منکد راور ابراہیم بن وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ میرہ سے، ان دونوں نے حضرت انس بن مالک) اللهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ النَّبِيِّ رضى اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا في صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی چار وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْن۔رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دورکعتیں پڑھیں۔اطرافه: ١٥٤٦، ١٥٤٧، ۱۰۸، ۱۰۰۱، ۱۷۱۲، ۱۷۱۴، ۱۷۱۰، ۲۹۵۱، ۲۹۸۶ ۱۰۹۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۰۹۰ عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن الزُّهْرِي عَنْ کیا، کہا : سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زہری نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا