صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 468
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۸سلام ١٦ - كتاب الكسوف حضرت اسماء کی روایت کا حوالہ دے کر اکتفاء کیا گیا ہے۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ اصل مسودہ کتاب میں یہ جگہ خالی چھوڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ کوئی مناسب روایت ملنے پر پر کی جائے۔ نستا خین ( کاتبوں ) میں سے صرف مستملی نے پہلا عنوان باب اپنے نسخہ میں دکھلایا ہے اور باب نمبر ۱۸ کو چھوڑ دیا ہے جبکہ باقی نساخین نے دوسرا باب لیا ہے اور پہلے کو چھوڑ دیا ہے۔ فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۷۰۷ ) دونوں نے غلطی کی ہے۔ نقل اصل کے مطابق ہونی چاہیے۔ باب ۱۹ : الْجَهْرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي الْكُسُوْفِ گرہن کی نماز میں بلند آواز سے قرآت کرنا ١٠٦5 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ۱۰۶۵ محمد بن مهران ۔ محمد بن مہران نے ہم سے بیان کیا، کہا: ولید قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ نَمِرٍ (بن مسلم) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ ( عبد الرحمن ) بن نمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابنِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَهَرَ النَّبِيُّ شہاب سے سنا۔ انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ ( وہ کہتی تھیں ) کہ الْخُسُوْفِ بِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ في صلی اللہ علیہ وسلم نے خسوف کی نماز میں قرآت بلند قِرَاءَتِهِ كَبَّرَ فَرَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ مِنَ آواز سے کی۔ جب آپ قرآت سے فارغ ہوئے تو الرَّكْعَةِ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا آپ نے اللہ اکبر کہا اور رکوع کیا۔ اور جب رکوع وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ يُعَاوِدُ الْقِرَاءَةَ فِي (س) اٹھایا تو سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا صَلَاةِ الْكُسُوْفِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي وَلَكَ الْحَمْد کہا۔ پھر آپ نے دوبارہ قرأت رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ۔ شروع کر دی۔ کسوف کی نماز میں آپ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے ۔ اطرافه: ١٠٤٤، ١٠٤٦ ، 1047، 1050 ، 1056، 1058 ، ١٠٦٤، ١٠٦٦، ٣٢، ٤٦٢٤، ٥٢٢١، ٦٦٣١۰۳ ،۱۲۱۲ ١٠٦٦ : وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَغَيْرُهُ ۱۰۶۶ اور اوزاعی وغیرہ نے کہا: میں نے زہری سے سَمِعْتُ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ سنا۔ وہ عروہ سے، عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ