صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 430 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 430

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۳۰ ١٥ - كتاب الاستسقاء لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمٌ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ۔ ( كتاب بدء الخلق باب ۵ روایت نمبر ۳۲۰۶) میں نہیں جانتا نا کہ کہیں یہ بادل ایسے نہ ہوں جو عذاب پر مشتمل ہوں جیسا کہ قوم (عاد) (عاد) ۔ نے سمجھا اتھا تھا کہ کہ ہم ہم پر پر باد بادل بارش برسانے والے ہیں حالانکہ وہی ان کے لئے عذاب کا موجب بن گئے۔ مسلم، ابوداؤد اور نسائی نے بھی انہی معنوں میں روایتیں نقل کی ہیں۔ (مسلم۔ كتاب صلاة الاستسقاء۔ باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم)(ابوداؤد۔ كتاب الادب۔ باب ما يقول اذا هاجت الريح) (نسائى كتاب الاستسقاء۔ باب القول عند المطر) صَابَ کے معنے نَزَلَ یعنی اُترا (لسان العرب تحت لفظ صوب) اور يَصُوبُ مضارع ہے اور صوبا اس کا مصدر ہے۔ بَاب ٢٤ : مَنْ تَمَطَّرَ فِي الْمَطَرِ حَتَّى يَتَحَادَرَ عَلَى لِحْيَتِهِ جو مینہ کے انتظار میں یہاں تک کھڑا رہے کہ اس کی داڑھی سے قطرے ٹیکنے لگیں ١٠٣٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ۱۰۳۳: محمد بن مقاتل ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ عبد الله بن مبارک ) نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے کہا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ہمیں اوزاعی نے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحق بن عبداللہ طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ بن ابی طلحہ انصاری نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: مَالِكِ قَالَ أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى حضرت انس بن مالک نے مجھے بتایا، کہا: رسول اللہ عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں میں قحط پڑا۔ اس فَبَيْنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثناء میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ لوگوں سے مخاطب تھے۔ ایک بدوی نے کھڑے ہو کر کہا: أَعْرَابِي فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلَكَ يا رسول اللہ ! جانور مر گئے ، بال بچے بھوکے ہیں۔ آپ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ ہمارے لئے اللہ سے دعا کریں کہ وہ بارش برسائے۔ يَسْقِينَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ راوی کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَاءِ فَزَعَةٌ اٹھائے اور اس وقت آسمان میں ابر کا ایک ٹکڑا بھی نہ تھا۔ قَالَ فَتَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ کہتے تھے کہ اتنے میں پہاڑوں کی طرح بادل امڈ آئے