صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 416
صحيح البخاری جلد ۲ ام ۱۵ - كتاب الاستسقاء ہر شئے میں خیر و برکت ہے لیکن وہ انسان کے سوء تصرف سے شر کا باعث بھی ہو سکتی ہے۔ سورۃ الفلق میں اسی شر سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فرمایا ہے: قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ کہ میں مخلوقات کے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود تفسیر سورۃ الفلق ، جلد ۱۰ صفحہ ۵۵۶ تا ۵۶۶ جہاں بسط سے اس لطیف مضمون پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس عالم میں خیر وشر کا ظہور تقدیر الہی کے تحت ہوتا رہتا ہے اور یہ خالق کا ئنات کے وجود پر محکم دلیل ہے۔ باب ۱۱ مَا قِيلَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يُحَوِّلْ رِدَاءَهُ فِي الْاِسْتِسْقَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ یہ جو کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن بارش کی دعا کرتے وقت اپنی چادر نہیں الٹائی ۱۰۱۸: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ۱۰۱۸: حسن بن بشر نے ہم سے بیان کیا، کہا: معافی قَالَ حَدَّثَنَا مُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ عَنِ ابن عمران نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اوزاعی سے، الْأَوْزَاعِي عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ اوزاعی نے اسحق بن عبداللہ ( بن ابی طلحہ ) سے، الحق أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ ایک النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَاكَ شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جانور الْمَالِ وَجَهْدَ الْعِيَالِ فَدَعَا الله مر جانے اور بال بچوں کے تکلیف اٹھانے کی شکایت يَسْتَسْقِي وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ حَوَّلَ رِدَاءَهُ کی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے بارش کے لئے دعا کی وَلَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ۔ اور اس نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے چادر اُلٹائی اور نہ یہ بتایا کہ آپ قبلہ رخ ہوئے ۔ اطرافه ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳، ۱۰۱۷، 1015 ، 1016، ۱۰۱۷، ۱۰۱۹، ٦٠٩ ، ٦٣٤٢۳ ،۳۵۸۲ ،۱۰۳۳ ،۱۰۲۹ ،۱۰۲۱ تشريح : لَمْ يُحَوِّلُ رِدَاءَ : روایت نمبر ۱۸ آئی راویوں سے مروی ہے۔ دیکھے روایت نمبر۱۰۱۵،۱۰۱۳، ۱۰۱۶، ۱۰۱۷، ۱۰۱۹ ۔ اور اسی وجہ سے علماء نے تحویل رداء کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص حالت کے ساتھ وابستہ سمجھا ہے اور صحت نماز کے لئے اسے بطور شرط نہیں گردانا۔