صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 414
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱۴ ۱۵ - كتاب الاستسقاء بَاب ۹ : مَنِ اكْتَفَى بِصَلَاةِ الْجُمُعَةِ فِي الْإِسْتِسْقَاءِ جو بارش کی دعا کے لئے جمعہ کی نماز ہی کافی سمجھے ١٠١٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۱۰۱۶ : عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مَالِكٍ عَنْ شَرِيْكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مالک سے، مالک نے شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر ) أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى ہے، شریک نے حضرت انس سے روایت کی کہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَكَتِ انہوں نے کہا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ فَدَعَا پاس آیا اور اس نے کہا: مویشی مر گئے اور راستے بند فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ثُمَّ ہو گئے ہیں۔ آپ نے دعا کی اور اس جمعہ سے جَاءَ فَقَالَ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَتَقَطَّعَتِ دوسرے جمعہ تک ہم پر بارش ہوتی رہی ۔ پھر وہ آیا اور السُّبُلُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي فَادْعُ الله اس نے کہا: گھر گر گئے اور راستے بند ہو گئے اور مویشی يُمْسِكْهَا فَقَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مر گئے ۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ بارش ہم سے فَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالطَّرَابِ روک لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ فَانْجَابَتْ آپ نے دعا کی: اے اللہ اٹیوں پر اور پہاڑیوں پر اور نالوں پر اور درختوں کے اُگنے کی جگہ پر مینہ برسا عَنِ الْمَدِينَةِ الْجِيَابَ الثَّوْبِ۔ چنانچہ مدینہ سے بادل کپڑے کی طرح پھٹ گئے ۔ اطرافه ۹۳۲، ۹۳۳ ، ۱۰۱۳ ، ۱۰۱۴، ۱۰۱۵، ۱۰۱۷ ، ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، ٦٠٩، ٠٦٣٤٢۳ ،۳۵۸۲ ، ۱۰۳۳ ، ۱۰۲۹ ،۱۰۲۱ تشريح : مَنِ اكتفى بِصَلَاةِ الْجُمُعَةِ فِي الْاِسْتِسْقَاءِ : جمہور کے نزدیک نماز استسقاء میں دو رکعت نفل بطور شرط ضروری ہے۔ مگر امام ابو حنیفہ کے نزدیک ضروری نہیں۔ ے نزدیک ضروری ہیں ۔ (بداية المجتهد۔ كتاب الصلاة الثاني۔ الباب السابع في الاستسقاء) اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت انس کی روایت نمبر ۱۰۱۶ میں صرف دعا کا ذکر ہے۔ ایسا ہی حضرت عبداللہ بن زید مازنی کی روایت نمبر ۱۰۱۱ میں بھی نماز پڑھنے کا ذکر نہیں گو دوسری سند کی اسی روایت نمبر ۱۰۱۲ میں نماز کا ذکر ہے۔ اس لئے جمہور کی دلیل یہ ہے کہ کسی روایت میں نماز کا ذکر نہ ہونا حجت نہیں بلکہ جس روایت میں ذکر ہے وہ حجت ہے جو درست استدلال ہے۔ حضرت انس کی مذکورہ بالا روایت کی بناء پر بعض کا یہ خیال ہے کہ جمعہ کی نماز ہی کافی سمجھی گئی تھی۔ اس لئے الگ دورکعتیں نہیں پڑھی گئیں۔ امام بخاری نے عنوان باب مصدر یہ رکھ کر علی الاطلاق دونوں صورتیں ہی جائے ن دونوں صورتیں ہی جائز قرار دی ہیں، مطلق دعا یا دوگانہ نفل ۔