صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 413 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 413

صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱۳ باب ۸ : الْإِسْتِسْقَاءُ عَلَى الْمِنْبَرِ منبر پر برسات کے لئے دعا کرنا ۱۵ - كتاب الاستسقاء ١٠١٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۰۱۵ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعوانہ نے أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَس قَالَ ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (بن مالک) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اس اثناء يَخطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لوگوں سے فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَطَ الْمَطَرُ فَادْعُ مخاطب تھے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا۔اس نے کہا: اللَّهَ أَنْ يَّسْقِينَا فَدَعَا فَمُطِرْنَا فَمَا كِدْنَا يا رسول الله ! بارش نہیں ہوئی۔آپ اللہ سے دعا کریں أَنْ نَّصِلَ إِلَى مَنَازِلِنَا فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ کہ ہم پر مینہ برسائے۔آپ نے دعا کی اور بارش ہوئی إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ قَالَ فَقَامَ ذَلِكَ اور اتی ہوئی کہ ہمارے لئے اپنے گھروں کو جانا مشکل ہو گیا۔آئندہ جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔(حضرت انس ) الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُصْرِفَهُ عَنَّا فَقَالَ رَسُوْلُ کہتے تھے: وہی شخص یا کوئی اور کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ الله ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ اب اس کو ہم سے ہٹا دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! ہمارے ارد گرد ہو اور ہم پر نہ ہو۔(حضرت انس) کہتے تھے: میں نے دیکھا کہ بادل پھٹتے ہوئے دائیں اور بائیں طرف جارہے ہیں۔لوگوں پر تو بارش ہوتی تھی مگر مدینہ والوں پر نہ ہوتی تھی۔حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَقَطَّعُ يَمِينًا وَشِمَالًا يُمْطَرُوْنَ وَلَا يُمْطَرُ أَهْلُ الْمَدِينَةِ۔تشریح ۱۸ ،۱۰۱۷ ،۱١، ٠١٦ • اطرافه ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۱،۱۰۱۳ ۱۰۲۱، ۱۰۲۹، ۱۰۳۳، ۳۵۸۲، ٦٣٤٢،٦٠۹۳۔،۱۰۱۹ ،۱ الْإِسْتِسْقَاءُ عَلَى الْمِنْبَرِ : بعض لوگ دعا کے لئے مخصوص جگہ کی شرط عائد کرتے ہیں جو صحیح نہیں۔جس حالت میں انسان ہو اور جہاں ہو دعا کر سکتا ہے۔خواہ منبر پر کھڑ ا لوگوں سے مخاطب ہو۔دعا اور اس کی قبولیت کا انحصار زیادہ تر قلبی کیفیات پر ہے جو مکان وزمان کی قیود سے آزاد ہیں۔