صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 412 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 412

صحيح البخاری جلد ۲ ۱۳ ۱۵ - كتاب الاستسقاء ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي سے ایک شخص داخل ہوا اور اس وقت رسول اللہ الْجُمُعَةِ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ فرمارہے تھے۔ اس نے وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا کھڑے کھڑے آپ کی طرف منہ کیا اور کہا: یا رسول فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ الله مال مویشی تباہ ہو گئے اور راستے کٹ گئے ۔ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللهَ يُمْسِكْهَا آپ اللہ سے دعا کریں کہ بارش ہم سے روک لے۔ عَنَّا قَالَ فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ حضرت انس نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: اے اللہ ! ہمارے گردا گرو وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ ہو اور ہم پر نہ ہو۔ اے اللہ ! ٹیلوں اور اور ٹیکریوں وَالطَّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ وادیوں کے نشیبوں میں اور درخت اگنے کی جگہوں الشَّجَرِ قَالَ فَأَقْلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي میں برے ابر سے۔ حضرت انس کہتے تھے : اتنے میں فِي الشَّمْسِ قَالَ شَرِيكَ سَأَلْتُ أَنسَ پھٹ گیا اور ہم نکلے، دھوپ میں چلنے پھرنے لگے۔ شریک کہتے تھے: میں نے حضرت انس بن مالک بْنَ مَالِكِ أَهْوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ فَقَالَ مَا سے پوچھا: کیا یہ پہلا ہی شخص تھا؟ انہوں نے جواب أَدْرِي۔ دیا۔ میں نہیں جانتا ۔ یں اور میں بادل إطرافه: ۹۳۲، ۹۳۳، ۱۰۱۳ ، 10۱۷ ، 1015 ، 1016، ۱۰۱۷، ۱۰۱۸، ۱۰۱۹، ۱۰۲۱، ۱۰۲۹، ۱۰۳۳، ۳۵۸۲، ٦٠٩۳، ٦٣٤٢۔ تشريح : الاسْتِسْقَاءُ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةِ: جمہور نے دعاء استقاء کے لئے یہ بھی شرط قرار دی ہے کہ امام قبلہ رخ کھڑا ہو کر دعا کرے اور اسے سنت قرار دیا ہے ۔ (بداية المجتهد، كتاب الصلاة الثاني الباب السابع في الاستسقاء) امام بخاری کے نزدیک دعاء استسقاء کسی حالت میں بھی کی جاسکتی ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف بھی ثابت ہے البتہ جب با جماعت نماز کی صورت ہوگی تو پھر قبلہ رخ ہونا ضروری ہے۔ نَحْوَ بَابِ دَارِ الْقَضَاءِ : روایت نمبر ۱۰۱۴ میں جس دار القضاء کا ذکر ہے وہ حضرت عمر نے بنوایا تھا اور ان کی وصیت کے مطابق اسے فروخت کر کے ان کا قرضہ ادا کیا گیا۔