صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 394
صحيح البخاری جلد ۲ ا حاله ١٤ - كتاب الوتر ہے۔ حدیث تشريح : لِيَجْعَلُ آخِرَ صَلَاتِهِ وتُرا: اس باب سے بھی باب کے مضمون کی تائید ہوتی ہے۔ نمبر ۹۹۸ کے الفاظ صلا تُكُم بِاللَّيْلِ سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ نماز ہے۔ اِجْعَلُوا ا جو صیغہ امر ہے اس سے امر وجوب مراد نہیں کیونکہ نماز تہجد نفل نماز ہے نہ کہ فرض جیسا کہ آیت وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ (بنی اسرائیل: ۸۰) سے ظاہر ہے یعنی رات کو بھی بیدار ہو کر اس قرآن کے ذریعے سے عبادت کر جو تیرے لئے بطور زائد انعام ہے۔ عسی أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (بنی اسرائیل: ۸۰) امید ہے کہ تیرا رب تجھے سراپا حمد والے مقام پر کھڑا کر دے ۔ امام بخاری نے بھی عنوان باب میں وتر پڑھنے سے متعلق لِيَجْعَل کا فقرہ بطور تشریح اختیار کیا ہے ۔ لام امر وجوب اختیاری پر دلالت کرتا ہے اور زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ وتر تہجد کی نماز کے آخر میں پڑھا جائے۔ بَابه : الْوِتْرُ عَلَى الدَّابَّةِ جانور پر سوار رہ کر وتر پڑھنا ۹۹۹: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۹۹۹: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ کیا ، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوبکر بن عمر عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ بن عبد الرحمن بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے، الْخَطَّابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ انہوں نے سعید بن یسار سے روایت کی کہ انہوں نے كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ مکہ کے راستہ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ سَعِيْدٌ فَلَمَّا خَشِيْتُ میں سفر کرتا تھا۔ سعید نے کہا: جب مجھے صبح ہونے کا الصَّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَقَالَ اندیشہ ہوا تو میں نے ( سواری سے) اُتر کر نماز وتر عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ پڑھی۔ پھر ان سے جاملا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے حَشِيْتُ الصُّبْحَ فَتَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ فَقَالَ کہا: آپ کہاں تھے۔ میں نے کہا: صبح ہونے کا مجھے اندیشہ ہوا تو میں نے اتر کر نماز وتر پڑھی۔ حضرت عَبْدُ اللَّهِ أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَقُلْتُ عبداللہ نے کہا: کیا تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ میں اسوۂ حسنہ نہیں ہے۔ میں نے کہا: بخدا کیوں نہیں ۔ بَلَى وَاللَّهِ قَالَ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله انہوں نے کہا رسول اللہصلی اللہ علیہ سلم تو اونٹ پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ۔ سوار رہ کر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ اطرافه ۱۰۰۰، 1095، 1096، 1098، 1105۔