صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 393
صحيح البخاری- جلد ۲ ۳۹۳ ١٤ - كتاب الوتر بَاب : إِيقَاظُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ بِالْوِتْرِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے گھر والوں کو وتر کے لئے جگانا ۹۹۷: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۹۷ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بچی ( قطان ) يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہشام نے ہمیں أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی بتایا، کہا: میرے باپ ( عروہ بن زبیر ) نے مجھے بتایا۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں: مُعْتَرِضَةً عَلَى فِرَاشِهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ في صلى اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے اور میں آپ کے يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ۔ بچھونے پر آڑی سورہی ہوتی۔ جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھتی۔ اطرافه: ۳۸۲، ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۰۸، ۵۱۱، ۱۲ ، ٥۱۳، ٥١٤، ۵۱٥، ۵۱۹، ١٢٠٩، ٦٢٧٦۔ الله : تشريح : إيقاظ النَّبِيِّ الأَهْلَهُ بِالْوِتْرِ : پانچوں اختلاف یہ ہے کہ یا تجد پڑھنے والو کے لئے یہ خصوصیت ہے کہ وہ وتر تہجد کے ساتھ پڑھیں؟ اس کا جواب روایت نمبر ۹۹۷ سے دیا ہے۔ حضرت عائشہ کے الفاظ فَاوْتَرْتُ سے علماء نے یہ استنباط کیا ہے کہ وتر کے لئے ضروری نہیں کہ اس سے پہلے دو گا نہ رکعتیں پڑھی جائیں ۔ حضرت عائشہ کا وتر کو پہلے حصہ شب میں چھوڑنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو اس کے لئے آخر شب میں جگانا بتاتا ہے کہ مستحب یہی ہے کہ آخری حصہ شب میں نماز وتر پڑھی جائے۔ باب ٤ : لِيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وَثُرًا چاہیے کہ وتر کو اپنی نماز کے آخر میں رکھے ۹۹۸: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۹۸ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحی بن سعید يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ عبید اللہ (عمری) سے مروی ہے کہ نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ (انہوں نے کہا:) نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ عبد الله بن عمر) سے روایت ہے۔ انہوں نے نبی بِاللَّيْلِ وثرًا ۔ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپ نے فرمایا: رات کو اپنی آخری نماز وتر رکھا کرو۔