صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 392 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 392

صحيح البخاری جلد ۲ قَالَ حَمَّادٌ أَيْ بِسُرْعَةٍ۔۳۹۲ ١٤- كتاب الوتر پڑھتے کہ گویا تکبیر کی آواز آپ کے کان میں پڑ رہی ہے۔حماد نے کہا: یعنی جلدی سے۔اطرافه ،۱۷۲ ۱۷۳، ۹۹۰، ۹۹۳، ۱۱۳۷۔٩٩٦: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ ٩٩٦: عمر بن حفص بن غیاث ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ کیا، کہا: میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ نے کہا: اعمش نے ہمیں بتایا کہا: مسلم (بن کیسان) عَائِشَةَ قَالَتْ كُلَّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ نے مجھے بتایا۔انہوں نے مسروق سے، مسروق اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْتَهَى وثَرُهُ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں إِلَى السَّحَرِ۔وتر پڑھے ہیں اور آخر عمر میں آپ سحری کے وقت وتر پڑھا کرتے تھے۔تشریح: سَاعَاتُ الْوِتُرِ : چوتھا اختلاف یہ ہے کہ آیا سونے سے پہلے وتر نماز پڑھی جائے یا سونے کے بعد۔علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ نماز عشاء کے بعد طلوع فجر تک نماز وتر پڑھی جاسکتی ہے۔روایت نمبر ۹۹۶٬۹۹۵ سے اس مذہب کی تائید ہوتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عملدرآمد یہی تھا کہ آپ نماز تہجد کے ساتھ وتر پڑھتے۔پس ترجیح آپ کے آخری عمل کو ہے۔جیسا کہ اگلے باب سے بھی واضح ہوتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کو جو تاکید کی گئی تھی تو وہ ان کے لئے خاص تھی۔جیسا کہ اوصانی کے لفظ دلالت کرتے ہیں۔رات کو ان کی آنکھ نہ کھلتی۔پس جن کی آنکھ نہ کھلتی ہو ان کے لئے نماز عشاء کے بعد ہی وتر پڑھ لینا بہتر ہے۔یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ طلوع فجر کے بعد وتر پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔امام ابوحنیفہ کے سوا باقی تین آئمہ نے صبح کی نماز سے پہلے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔مگر یہ بطور قضا کے ہوگا۔(بداية المجتهد، كتاب الصلاة الثانى الباب الاول القول في الوتر - وقته