صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 391 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 391

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۹۱ ١٤ - كتاب الوتر جاسکتے ہیں۔مگر تہجد رات کے سونے کے بعد اُٹھ کر عبادت کرنے کا نام ہے۔روایت نمبر ۹۹۲ میں حضرت ابن عباس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے پر سونے کا ذکر ہے۔اس زمانہ میں اور اب بھی عرب فرش زمین پر ہی تو شک یا گڈا بچھاتے اور اس پر لیٹتے ہیں۔یہ گڈا کافی چوڑا ہوتا ہے۔روایت نمبر ۹۹۴ اسی فرق کی طرف اشارہ کرنے کے لئے نقل کی ہے۔اس میں رات کی نماز دس رکعت قرار دی گئی ہے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ وتر کی نماز ایک الگ رکعت ہے۔روایت نمبر ۹۹۰ کی بنا پر حنفیوں کی دلیل یہ ہے کہ ایک رکعت نماز صبح ہو جانے کے خوف سے مشروط ہے۔اس کا جواب روایت نمبر ۹۹۳ کے الفاظ فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِف فَارْكَعُ رَكْعَةً سے دیا ہے۔دونوں روایتیں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے منقول ہیں اور دونوں کا مقصد یہ ہے کہ تہجد کی نماز کو ایک رکعت پڑھ کر طاق بنا دینا چاہیے۔لَا يَكُونُ بِشَيْ ءٍ مِنْهُ بَأْسٌ : قاسم بن محمد بن ابى بكر ) جو راوی ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کا یہی مفہوم سمجھتے ہیں کہ وتر الگ پڑھا جائے مگر ان کے زمانے میں لوگ و ترتین رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔اس لئے ان کی رائے میں دونوں طرح جائز ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جب لوگ تہجد میں سست ہو گئے تھے۔روایت نمبر ۹۹۳ کے آخر میں مذکورہ بالا سند سے قاسم کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ ابو نعیم نے نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۲۵) بَاب ۲ : سَاعَاتُ الْوِتْرِ وتر پڑھنے کے اوقات قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى حضرت ابو ہریرہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ۔سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی تاکید کی۔:٩٩٥ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ :۹۹۵ ابوالنعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ زید نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: انس بن بْنُ سِيْرِيْنَ قَالَ قُلْتُ لاِبْن عُمَرَ أَرَأَيْتَ سیرین نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے حضرت (عبداللہ ) الرَّكْعَتَيْن قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ أُطِيْلُ بن عمر سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں صبح کی فِيْهِمَا الْقِرَاءَةَ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى نماز سے پہلے دو رکعتوں میں قرآت لمبی کیا کروں۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى انہوں نے جواب دیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دودو مَثْنَى وَيُوْتِرُ بِرَكْعَةٍ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور ایک رکعت پڑھ کر اُن کو قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَكَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ طاق کر لیتے۔صبح کی نماز سے پہلے دور کعتیں اس طرح