صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 386
بخاری ی جلد ۲ MAY ١٣ - كتاب العيدين رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا نہ ان سے پہلے نماز پڑھی نہ بعد میں اور آپ کے ساتھ حضرت بلال بھی تھے۔وَمَعَهُ بِلَالٌ۔اطرافه ۹۸ ٨٦٣، ٩٦٢، ٩٦٤ ، ٩٧٥، ۹۷۷، ۹۷۹، ١٤۳۱، ١٤٤٩، ٤٨٩٥، ۷۳۲۵ ،۵۸۸۳ ،۵۸۸۱ ،۵۸۸۰ ،٥٢٤٩ تشريح : الصَّلَاةُ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا : اس مسلہ میں بعض علماء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔جمہور کا مذہب یہی ہے کہ نماز عید سے نہ پہلے نفل پڑھے جائیں اور نہ ہی بعد میں۔امام شافعی عید سے پہلے اور ، بعد اور امام ابو حنیفہ نماز عید کے بعد نفل جائز سمجھتے ہیں۔امام مالک گھر میں نفل پڑھنا جائز سمجھتے ہیں۔عید گاہ میں نہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے بداية المجتهد، كتاب الصلاة الثاني الباب الثامن في صلاة العيدين نيز دیکھئے فتح الباری جزء ثانی صفحه ۶۱۳ ۶۱۴۔امام بخاری جمہور کے مذہب کی تائید میں ہیں۔جو روایت یہاں پیش کی گئی ہے وہ نمبر ۹۶۴ میں گذر چکی ہے۔اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ اس عید میں آپ نے نقل نہیں پڑھے۔اس لئے عنوان باب احتیاطاً مصدر سے قائم کیا گیا ہے۔