صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 385 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 385

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۸۵ ۱۳ - كتاب العيدين کرنا لازم ہوتا ہے لیکن عید کی نماز ایک مستقل عبادت ہے۔ اس کو اسی طرح ۔ اس کو اسی طرح قضاء پڑھا جائے جس طرح کہ امام نے اس کو ادا کیا ہے اور قضاء میں کمی بیشی نہیں ہوتی ۔ پس امام شافعی کا مذہب صحیح ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے بداية المجتهد، كتاب الصلاة الثاني، الباب الثامن في صلاة العيدين - امام بخاری نے بھی اسی مذہب کی تائید میں عنوان باب میں پہلا حوالہ جو دیا ہے اس کا مضمر ا ہے اس کا مضمون روایت نمبر ۹۵۲ مهمون روایت نمبر ۹۵۲ اور ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء في كراهية الصوم في ايام التشريق سے ماخوذ ہے ۔ هَذَا عِيدُنَا أَهْلَ الإِسْلَام سے یہ استنباط کیا گیا ہے کہ تمام اہل اسلام اس میں شریک ہوں اور عید میں پہلا کام دورکعت نماز ہے۔ باقی حوالوں کی تفصیل فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۶۱۲ ۶۱۳ میں دیکھئے۔ شہر اور دیہات میں کوئی امتیاز نہیں جہاں موقع ملے سب پر واجب ہے کہ اس دن فریضہ عید ادا کریں۔ امام بخاری نے روایت نمبر ۹۸۸،۹۸۷ نقل کر کے عید کی ایک ادنی صورت خوشی منانے کی پیش کی ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن اس ادنی صورت میں روک بھی پیدا ہونے کو پسند نہیں فرمایا، چہ جائیکہ عید کی اعلیٰ صورت میں جو کہ روحانی ہے کسی فتوئی سے روک پید کر دی جائے ۔ اگر کوئی با جماعت نماز میں شریک نہیں ہو سکا تو اس کو قضا کر لینی چاہیے تا وہ بھی روحانی طور پر عید میں شریک ہو جائے۔ تِلْكَ الأَيَّامُ أَيَّامُ مِنی : یعنی عید الاضحیہ کے دن تھے۔ باب ٢٦ : الصَّلَاةُ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا عید سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھنا وَقَالَ أَبُو الْمُعَلَّى سَمِعْتُ سَعِيدًا عَنِ اور ابو معلى ( يحي بن میمون ) کہتے تھے: میں نے سعید ابْنِ عَبَّاسٍ كَرِهَ الصَّلَاةَ قَبْلَ الْعِيدِ۔ (بن جبیر ) سے سنا۔ وہ حضرت ابن عباس کے متعلق بیان کرتے تھے کہ انہوں نے عید سے پہلے نماز پڑھنا مکروہ جانا ہے۔ ۹۸۹: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ ۹۸۹: ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا: شعبہ نے حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عدی بن ثابت نے ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ مجھے بتایا، کہا: میں نے سعید بن جبیر سے سنا کہ حضرت ابْنِ عَبَّاسِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن عباسؓ سے مروی ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی عید الفطر کے دن نکلے اور آپ نے دور کعتیں پڑھیں