صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 377 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 377

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۷ ١٣ - كتاب العيدين قَالَ لِيَخْرُجِ الْعَوَائِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ انہوں نے کہا: ہاں ۔ میرا باپ آپ پر قربان اور جب بھی أَوْ قَالَ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ شَكَ ونی صلی الہ علیہ سلم کاذکر کرتیں تو کہیں میرا باپ آپ پر أَيُّوبُ وَالْحُيَّضُ وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ قربان ہو۔ آپ نے فرمایا: پردہ دار جوان عورتیں یا فرمایا: الْمُصَلَّى وَلْيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ چاہیے جو ان عورتیں اور پردہ نشین بھی نکلیں؟ ایوب نے الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا الْحُيَّضُ شک کیا ( کہ ان دونوں میں سے کونسے الفاظ تھے ) اور حیض والیاں بھی نکلا کریں مگر حیض والیاں نماز گاہ سے قَالَتْ نَعَمْ أَلَيْسَ الْحَائِضُ تَشْهَدُ الگ رہیں اور نیک کاموں اور مومنوں کی دعا میں شریک عَرَفَاتٍ وَتَشْهَدُ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا۔ ہوں۔ (حفصہ ) کہتی تھیں کہ میں نے ان سے کہا: کیا حیض والیاں بھی نکلیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ کیا حائضہ (حج کے موقع پر عرفات میں موجود نہیں ہوتی اور فلاں فلاں مقام میں بھی حاضر نہیں ہوتی ؟ اطرافه ۳۲٤، ۳۵۱، ۹۷۱، ۹۷۴، ٩٨١، ١٦٥٢۔ تشريح : إِذَا لَمْ يَكُن لَّهَا جِلْبَابٌ فِي الْعِيدِ : جلباب عربی زبان میں وہ کپڑا ہے جو بدن کے کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے اور عباء کی طرح سلا ہوا ہوتا ہے اور فراخ ہوتا ہے ۔ کندھوں پر ڈال لیا جاتا ہے۔ جیسے عباء پہنی جاتی ہے اور اس سے بدن کے کپڑے سینہ اور ہاتھ چھپ جاتے ہیں۔ اگر اس کو سر پر لے لیا جائے تو اوڑھنی کا کام بھی دیتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں نمائش کی عادی تھیں وہ اپنے جلباب کے سامنے کا حصہ کھلا چھوڑ دیتی تھیں جس سے چھاتی وغیرہ کا سامنے کا حصہ ظاہر ہو جاتا ۔ اسی وجہ سے قرآن مجید میں ان کو حکم ہوا: يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرِفْنَ فَلَا يُؤْذِينَ۔ (الاحزاب : ۶۰) اپنے جلباب ( بڑی چادریں ) سرکا کر نیچے لے آئیں تا آسانی سے پہنچانی جائیں ( کہ وہ مسلمان عورتیں ہیں ) اور انہیں تکلیف نہ دی جائے۔ ۱۹۱۴ء اور پھر ۱۹۲۵ء میں مجھے عراق ، عرب اور بغداد میں رہنے کا موقع ملا اور اثنائے قیام میں شہروں اور بدوی قبائل میں بھی جانے کا موقع ملا اور میں نے قبائل میں دیکھا اور حمص اور بغداد میں عرب عیسائی اور یہودی عورتوں کو بھی دیکھا کہ وہ جلباب پہن کر باہر نکلتیں اور سامنے سے اسے کھلا چھوڑ دیتیں۔ مردوں کو دیکھ کر وہ جلباب کا وہ حصہ جو سر پر ہوتا اسے سر کا کر اپنے چہرے کو چھپالیتیں جیسے پنجاب میں عورتیں گھونگھٹ سے اپنا چہرہ چھپاتی ہیں اور اسی طرح جلباب کو سامنے سے بھی سمیٹ کر اس کے دونوں حصوں کو قریب کر لیتیں اور اس طرح ان کا سینہ بھی چھپ جاتا۔ جس سے میں یہ سمجھا کہ حکم يُدْنِينَ