صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 375 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 375

صحيح البخاری جلد ۲ ۳۷۵ ١٣ - كتاب العيدين يُجَلِّسُ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشْقُهُمْ حَتَّى آپؐ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے۔ جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا حضرت بلال آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے (سورہ النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ ممتحنہ کی یہ آیتیں پڑھیں: اے نبی ! جب مومن الآية (الممتحنة: ١٣) ثُمَّ قَالَ حِيْنَ فَرَغَ عورتیں تیرے پاس آئیں (اور ) اس (امر) پر تیری مِنْهَا الْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ قَالَتِ امْرَأَةً بعت کریں۔ جب آپ ان آیات کی تلاوت وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا نَعَمْ لَا سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کیا تم ان باتوں پر يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ قائم ہو؟ اس پر ان میں سے ایک عورت نے کہا ہاں۔ دوسری عورتوں نے آپ کو جواب نہیں دیا۔ حسن ( بن فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ لَكُنَّ مسلم ) نہیں جانتے کہ وہ کون تھی۔ آپ نے فرمایا: اچھا فِدَاءٌ أَبِي وَأُمِّي فَيُلْقِيْنَ الْفَتَحَ صدقہ دو۔ حضرت بلال نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا: وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ قَالَ عَبْدُ لاؤ ڈالو۔ میرے ماں باپ تم پر قربان اور وہ چھلے اور الرَّزَّاقِ الْفَتَحُ الْخَوَاتِيمُ الْعِظَامُ كَانَتْ انگوٹھیاں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالتی جاتی تھیں۔ فِي الْجَاهِلِيَّةِ۔ عبدالرزاق نے کہا: فتح کے معنی بڑی انگوٹھیوں کے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتی تھیں ۔ اطرافه ۹۸، ٨٦٣، ٩٦٢، ۹٦٤، ۹۷۵، ۹۷۷، ۹۸۹، ۱۴۳۱، 1449، 4895، 6310 ٨٧٧٥٠٥٠٨٨٠ ١٧٧٥٠ ٠٧٧٥٠ تشريح : مَوْعِظَةُ الإِمَامِ النِّسَاءَ: جس وجہ سےیہ باب قائم کیا گیا ہے وہ روایت نمب ۹۷۵ کے مضمون سے واضح ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خ بہ وسلم اور خلفائے راشدین کے بعد ایک ایسا زمانہ آیا جس میں عورتوں کی شرکت اجتماعی کاموں میں معیوب سمجھی جانے لگی اور پھر آہستہ آہستہ بیرونی دنیا سے ان کے تعلقات کالعدم ہو گئے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور آپ کے بعد بھی وہ مردوں کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور تیمار داری کرتی تھیں۔ ( دیکھئے روایت نمبر ۹۸۰) اسلام نے پردہ ان معنوں میں ہرگز جاری نہیں کیا تھا جن معنوں میں آجکل مسلمانوں میں رواج دیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جو الگ نصیحت کرنے گئے ہیں تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کی آواز نہیں سن سکتی تھیں، نشیب میں بیٹھی ہوئی تھیں جیسا کہ لفظ نزل سے ظاہر ہے۔