صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 373
بخاری جلد ۲ ۱۳ - كتاب العيدين رض عَبَّاسِ قِيْلَ لَهُ أَشَهِدْتَ الْعِيْدَ مَعَ النَّبِيِّ حضرت ابن عباس سے سنا۔ان سے پوچھا گیا: کیا آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا نبی ﷺ کے ساتھ عید کی نماز میں موجود تھے؟ انہوں نے مَكَانِي مِنَ الصِّغَرِ مَا شَهِدْتُهُ حَتَّى أَتَى کہا: ہاں۔بچپن کی وجہ سے اگر مجھے خصوصیت حاصل نہ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارٍ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ہوتی تو میں عید میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا۔آپ اُس فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس بِلَالٌ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ تھا۔آپ نے نماز پڑھی۔پھر لوگوں سے مخاطب ہوئے۔اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يُهْوِيْنَ بِأَيْدِيهِنَّ حضرت بلال تھے۔آپ نے وعظ کیا اور نصیحت کی اور يَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ صدقہ کا انہیں حکم دیا۔میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ہاتھ وَبِلَالٌ إِلَى بَيْتِهِ۔پھیلا پھیلا کر حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالتی جاتی تھیں۔پھر آپ حضرت بلال سمیت گھر کو چلے گئے۔أطرافه: ۹۸، ٨٦٣، ٩٦٢، ٩٦٤، ٩٧٥، ۹۷۹، ۹۸۹، ۱۹۳۱، 1449، 4895، تشریح: ۷۳۲۵ ،۵۸۸۳ ،۵۸۸۱ ،۵۸۸۰ ،٥٢٤٩ الْعَلَمُ بِالْمُصَلَّى : كثير بن صالت کا مکان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بنا تھا۔اس کے قریب عید گاہ تھی وہاں ایک نشان تھا، جس سے عید گاہ کی حد محفوظ تھی اور باب اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ شہر کے با ہر نماز عید پڑھنا مستحب ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ وہاں کوئی جگہ معین نہ ہو۔نبی ﷺ کی عید گاہ معین تھی۔باب ۱۹ : مَوْعِظَةُ الْإِمَامِ النِّسَاءَ يَوْمَ الْعِيدِ عید کے دن امام کا عورتوں کو وعظ کرنا :۹۷۸ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ :۹۷۸ الحق بن ابراہیم بن نصر نے مجھ سے بیان کیا، إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَصْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ کہا: عبدالرزاق نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم کو ابن جریج الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْج قَالَ نے خبر دی۔وہ کہتے ہیں: مجھ کو عطاء بن ابی رباح) نے ( أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بتایا۔حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) سے مروی ہے