صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 372
صحيح البخاری جلد ۲ ۳۷۲ ١٣ - كتاب العيدين الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا دن بھیچ کی طرف نکلے۔ آپ نے دور کعتیں پڑھائیں۔ بِوَجْهِهِ وَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ تُسْكِنَا فِي پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ہماری پہلی يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَّبْدَأَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ تَرْجِعَ عبادت اس دن یہ ہوگی کہ ہم نماز پہلے پڑھیں۔ پھر فَتَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ لوٹ کر قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا تو اس نے ٹھیک پہلے سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ ہماری سنت کے موافق کیا اور جس نے اس سے ؟ ذبح کیا تو اُس نے صرف اپنے گھر والوں کے لئے شَيْءٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میں تو ذبح کر چکا ہوں۔ اب اللَّهِ إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ جلدی کی ۔ وہ قربانی نہیں ہے۔ اس پر ایک شخص اٹھا اور میرے پاس ایک پٹھیا ہے جو دوسالہ بکری سے بھی مِنْ مُّسِنَّةٍ قَالَ اذْبَحْهَا وَلَا تَفِي عَنْ اچھی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو ذبح کرلو اور تمہارے أَحَدٍ بَعْدَكَ ۔ بعد پھر کسی اور کی ( یہ غرض ) پوری نہیں کرے گی۔ اطرافه: ٩٥١ ٩٥٥، 965، 968، 93، 5545، 5556، ٥٥٥٧، ٥٥٦٠، ٠٥٥٦٣ ٦٦٧٣ تشريح : اسْتِقْبَالُ الْإِمَامِ النَّاسَ فِي خُطْبَةِ الْعِيدِ : عنوان باب میں حضرت ابو سعید خدری کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ باب ۶ روایت نمبر ۹۵۶ میں گذر چکا ہے۔ کتاب الجمعہ باب ۲۸ کے عنوان میں لوگوں کے متوجہ ہونے کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کو دہرانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ عیدین میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا کہ لوگوں کی طرف روئے سخن ہوتا ۔ بعض کے نزدیک قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا مکروہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر ایسے موقعوں پر امام اور لوگوں کا آمنے سامنے ہونا ضروری ہے۔ خواہ ان میں سے کسی کی پیٹھ قبلہ کی سمت ہو۔ باب ۱۸ : الْعَلَمُ الَّذِي بِالْمُصَلَّى نشان جو عید گاہ میں لگایا جائے ۹۷۷ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۹۷۷ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بچی نے ہمیں يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ بتایا ۔ سفیان ثوری) سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عبد الرحمن بن عابس نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے