صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 362
حيح البخاری جلد ۲ ۳۶۳ ۱۳ - كتاب العيدين بَاب ٩ : مَا يُكْرَهُ مِنْ حَمْلِ السَلَاحِ فِي الْعِيْدِ وَالْحَرَمِ عید میں اور حرم کے اندر ہتھیار لے جانا مکروہ ہے وَقَالَ الْحَسَنُ نُهُوا أَنْ يَحْمِلُوا اور حسن بصری) نے کہا: عید کے دن لوگوں کو ہتھیار السّلَاحَ يَوْمَ عِيْدٍ إِلَّا أَنْ يُخَافُوا عَدُوًّا لے جانے سے منع کیا گیا تھا، بجز اس کے کہ انہیں دشمن کا ڈر ہو۔٩٦٦: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى :۹۶۶ زکریا بن سمي ابوشکین نے ہم سے بیان کیا، أَبُو السُّكَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ کہا : ( عبدالرحمن ) محاربی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوْقَةَ عَنْ سَعِيْدِ نے کہا: محمد بن سوقہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت سعید بن بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِيْنَ جبیر سے مروی ہے۔وہ کہتے تھے : میں ( حج میں) أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَحْمَصِ قَدَمِهِ حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ تھا۔جب کہ ان فَلَزِقَتْ قَدَمُهُ بِالرِّكَابِ فَنَزَلْتَ کے پاؤں کے تلوے میں نیزے کی انی لگی اور ان کا پاؤں رکاب سے چمٹ گیا تو میں اترا اور نیزہ ان کے فَتَزَعْتُهَا وَذَلِكَ بِمِنِّي فَبَلَغَ الْحَجَّاجِ پاؤں سے کھینچ کر کالا اور یہ واقعہ منی میں ہوا۔حجاج کو فَجَعَلَ يَعُوْدُهُ فَقَالَ الْحَجَّاجُ لَوْ نَعْلَمُ یہ خبر پہنچی تو وہ ان کی بیمار پرسی کو آئے۔حجاج نے کہا: مَنْ أَصَابَكَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَنتَ کاش ہمیں یہ معلوم ہو کہ کس نے یہ نیزہ آپ کو مارا۔أَصَبْتَنِي قَالَ وَكَيْفَ قَالَ حَمَلْتَ حضرت ابن عمر نے کہا: تم ہی نے مجھے نیزہ مارا ہے۔السّلَاحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَكُنْ يُحْمَلُ فِيْهِ حجاج نے کہا: یہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے ایسے وَأَدْخَلْتَ السَّلَاحَ الْحَرَمَ وَلَمْ يَكُنِ دن میں ہتھیار اٹھوائے ہیں جس دن ان کو اٹھوایا نہیں جاتا تھا۔اور حرم میں تم نے ہتھیار داخل کئے حالانکہ السّلَاحُ يُدْخَلُ الْحَرَم۔اطرافه: ٩٦٧۔حرم کے اندر ہتھیار نہیں لائے جاتے تھے۔٩٦٧: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوْبَ :۹۲۷ احمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا، کہا: الحق قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بنِ بن سعيد بن عمرو بن سعید بن عاص نے مجھے بتایا کہ ان عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيْهِ کے باپ (سعید ) سے مروی ہے۔ان کے باپ نے کہا: