صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 334
صحيح البخاری جلد ۲ ٣٣ ۱۱ - كتاب الجمعة الصَّلَاةُ بَعْدَ الْجُمُعَةِ وَ قَبْلَهَا : روایت نمبر ۹۳۷ میں نماز جمعہ سے پہلے نفل پڑھنے کا ذکر //// اس کا ذکر روایت نمبر ۹۳۱ کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ قیاس بھی اس امر کی تائید کرتا جمعه ظهور ۔ ہے کہ نماز جمعہ سے پہلے دو رکعت نفل پڑھے جائیں ۔ کیونکہ نماز ظہر سے پہلے بھی آپ دورکعت پڑھا کرتے تھے اور نماز ظہر کی قائم مقام ہے۔ روایت مذکورہ بالا میں جمعہ کے بعد نفل پڑھنے کی صراحت ۔ بعد نفل پڑھنے کی صراحت ہے۔ اس لئے عنوان بار کا ذکر پہلے کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز فریضہ سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھنا بھی حکمت پر مبنی تھا۔ تھا۔ مشاغل دنیا کے اثر سے بالکل خالی الذہن ہونے کے لئے پہلے ایک تیاری کی ضرورت ہے۔ جو پہلی سنتوں کے ذریعہ سے پوری کی گئی ہے اور نماز فریضہ کی ادائیگی کی حالت میں انسان اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ دنیاوی کاروبار اس کی توجہ نہ کھینچے جس کی روک تھام بعد کی سنتوں سے کی گئی ہے۔ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقره: ۲۳۹) عنوان باب میں بھی ان اپنی نمازوں کی حفاظت کرو بالخصوص مرکزی نماز کی اور اللہ کے حضور فرمانبرداری کرتے ہوئے کھڑے ہو جاؤ۔} وسطیٰ کا وصف جہاں اس نماز پر اطلاق پاتا ہے جو مشاغل دنیا کے وسط میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کے ضائع ہونے کا خوف ہو۔ اسی طرح اس لفظ کے معنے اعلیٰ درجے کے بھی ہیں اور یہ اعلیٰ درجے کی نماز نماز فریضہ ہے جو نوافل کے درمیان رکھی گئی ہے تا کہ اسے شروع کرنے سے پہلے ذہن مشاغل دنیا کے اثرات سے خالی ہو اور بعد میں بھی جب اسے پڑھا جائے تو کسی قسم کی جلدی اس میں رخنہ انداز نہ ہو اور وہ اطمینان و سکون سے ادا کی جائے ۔ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ کے ارشاد سے عام نمازوں کی نگرانی کی تاکید ہے اور وَالصَّلَاةِ الْوُسطی سے خاص نمازوں کی نگرانی کا ارشاد ہے جن کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب مواقيت الصلاۃ تشریح باب ۱۴، ۱۵ ۔ بَاب ٤٠ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ (الجمعة: ١٦) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کی جستجو کرو ۹۳۸: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۹۳۸ : سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابو غسان نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابوحازم نے مجھے أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ قَالَ كَانَتْ فِيْنَا بتایا کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی ) سے مروی ہے امْرَأَةٌ تَجْعَلُ عَلَى أَرْبِعَاءَ فِي مَزْرَعَةٍ لَهَا کہ انہوں نے کہا: ہم میں ایک عورت تھی وہ اپنی کھیتی سِلْقًا فَكَانَتْ إِذَا كَانَ يَوْمُ جُمُعَةٍ تَنْزِعُ کی نالیوں پر چقندر بویا کرتی تھی۔ جب جمعہ کا دن أُصُولَ السِّلْقِ فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ ثُمَّ ہوتا تو وہ چقندر کی جڑیں نکال کر ایک ہانڈی میں ڈالتی