صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 309 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 309

صحيح البخاری جلد ۲ تشریح: ۳۰۹ ١١ - كتاب الجمعة اَلْمُؤذِّنُ الْوَاحِدُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک ہی مؤذن ہوتا جو اذان بھی کہتا اور تکبیر اقامت بھی کہتا۔اس باب سے ابن حبیب کی روایت کا رد کرنا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر بیٹھتے تو تین مؤذن یکے بعد دیگرے اذان دیتے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۵۰۸) بَاب ٢٣ : يُجِيْبُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ امام منبر پر بیٹھے ہوئے جب اذان سنے تو اس کا جواب دے ٩١٤: حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلِ قَالَ :۹۱۴: (محمد ) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عبداللہ نے ہمیں بتایا، کہا: ابوبکر بن عثمان بن سہل بن بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حنیف نے ہمیں بتایا۔ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْن سَهْلِ بْن حُنَيْفٍ قَالَ مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت معاویہ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ بن ابی سفیان سے جب کہ وہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے جَالِسٌ عَلَى الْمِنْبَرِ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَالَ نا۔مؤذن نے اذان دی اور کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر۔اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ قَالَ مُعَاوِيَةُ الله حضرت معاویہؓ نے بھی کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر مؤذن أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اللَّهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ نہیں حضرت معاویہؓ نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا مَؤذن نے کہا: میں گواہ ہوں کہ محمد اللہ کے رسول فَلَمَّا أَنْ قَضَى التَّأْذِيْنَ قَالَ يَا أَيُّهَا ہیں۔حضرت معاویہ نے کہا اور میں بھی۔جب مؤذن اذان کہہ چکا تو حضرت معاویہ نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جگہ بیٹھے ہوئے جس وقت مؤذن نے اذان دی وہی کہتے سنا الله النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ عَلَى هَذَا الْمَجْلِس حِيْنَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ يَقُوْلُ مَا سَمِعْتُمْ مِنِّي مِنْ مَقَالَتِي۔تھا جو تم نے مجھے کہتے سنا ہے۔اطرافه: ٦١٢ ٦١٣۔تشریح : يُجِيبُ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ: مسئلہ معونہ پرسب کو اتفاق ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہر مسلمان کے لئے ہے امام کا ایسے وقت میں کلمات اذان دہرانا دوسروں کے لئے یاد دہانی ہے۔چنانچہ حضرت معاویہ نے اسی مقصد کے مد نظر کلمات اذان دہرائے۔